لاہور (این این آئی)عدالت نے معروف پاکستانی گلوکار علی ظفر کی جانب سے ہتک عزت کیس میں میشا شفیع کو 50لاکھ جرمانہ کر دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے 8 سال بعد گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر میشا شفیع کے خلاف دائر 100کروڑ روپے کے ہتک عزت کے دعوے پر فیصلہ سنا دیا۔8سال میں 9جج تبدیل ہوئے جبکہ 283پیشیوں میں 20گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کے دعوے پر فیصلہ سنایا۔عدالت نے میشا شفیع کے گلوکار علی ظفر پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے میشا شفیع کے خلاف دعویٰ کو ڈگری کر دیا، عدالت نے میشا شفیع کو 50لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔اس سے قبل علی ظفر کے وکیل عمر طارق گل نے دلائل میں کہا کہ میشا شفیع نے جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کر کے شہرت کو نقصان پہنچایا، جنسی ہراسانی کا الزام ثابت کرنے کے لیے کوئی ایک گواہ موجود نہیں ہے لہٰذا عدالت میشا شفیع کو ایک ارب ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے اپنے حتمی دلائل میں کہا کہ علی ظفر نے میشا شفیع کو جنسی طور پر ہراساں کیا جس کے بعد میشا نے علی ظفر کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا۔ثاقب جیلانی نے کہا کہ جنسی ہراسانی کا کوئی گواہ نہیں ہوتا صرف ایک ٹراما ہوتا ہے جس سے متاثرہ خاتون گزرتی ہے، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق جنسی ہراسانی کے کیس میں متاثرہ خاتون کی گواہی بھی تسلیم کی جاسکتی ہے۔
میشا شفیع کے وکیل نے علی ظفر کا دعویٰ جرمانے کے ساتھ مسترد کرنے کی استدعا کی، عدالت نے وکلاء کے دلائل اور گواہوں کے بیانات اور جرح کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔علی ظفر اپنے حق میں 13جبکہ میشا شفیع نے 7گواہ پیش کئے جبکہ ہتک عزت کے دعوے کی آٹھ برسوں میں 283پیشیاں ہوئیں جبکہ اس دوران 9ججز کا تبادلہ ہوا، علی ظفر نے 2018ء میں میشا شفیع کے خلاف ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا۔



















































