بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

کراچی کو بھی پرائیوٹائز کردیں، ہم خرید کر زیادہ اچھا چلا لیں گے، تابش ہاشمی

datetime 22  جنوری‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)پاکستان کے نامور میزبان وکامیڈین تابش ہاشمی نے سانحہ گل پلازہ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پی آئی اے کی طرح کراچی کو بھی پرائیوٹائز کردیں، یہاں رہنے والے پٹھان، بلوچ، سندھی ، مہاجر، پنجابی سب مل کر شہر خرید لیں گے اور زیادہ اچھا چلالیں گے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تابش ہاشمی نے کہا کہ میرا بچپن کراچی میں اسکول سے جامعہ کراچی اور پھر مختلف نوکریاں کرتے ہوئے گزرا، یہاں تک کہ جب میں والد بنا تو میں بھی خریداری کے لیے گل پلازہ ہی گیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں گل پلازہ سے لائی گئی کوئی چیز موجود نہ ہو، بچپن سے لے کر جوانی اور اب جب پکی عمر میں ہیں تو جو ایسوسی ایشنز کراچی میں تھیں وہ ایک ایک کرکے ختم ہورہی ہیں۔

تابش ہاشمی نے کہا کہ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر ویڈیوز بنائیں لیکن ان باتوں کا بھی اگر مجھے حکومت کو بتانا پڑے تو پھر شاید وہاں جو لوگ بیٹھے ہیں ، ان کا کام نہیں، انہیں تو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے، آج یہ باتیں کی جارہی ہیں کہ بلڈنگ میں مسائل تھے تو یہ کام کس کا تھا؟ دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کا یہی کام ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے وزیر اعلی سندھ کی پریس کانفرنس سنی جس میں انہوں نے کہا میں جوابدہ ہوں لیکن یہ سب صرف باتوں سے نہیں ہوتا، ان پر عمل کرنا پڑتا ہے اور کروانا پڑتا ہے جب کہ یہ کراچی میں ہونے والا کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے پہلے بھی درجنوں سانحات ہوچکے ہیں اور مسلسل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ کہتے ہیں کہ وہ جوابدہ ہیں تو مجھے بتایا جائے کیا ان کا عہدہ چلا گیا یا ان کی تنخوا کٹی؟ یہاں تک کہ وہ جو متاثر لوگوں کو ہرجانہ دیتے ہیں، وہ بھی اپنی جیب سے ادا نہیں کرتے۔ میئر کراچی کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ہر چیز میں قبول تو کرلیتے ہیں کہ ہماری غلطی ہیں لیکن ساتھ میں کسی چیز کی نشاندہی کردیتے ہیں کہ فلاں چیز ایسی تھی اس لیے ایسا ہوگیا، حالانکہ دنیا میں یہ دستور ہے کہ جب آپ کسی عہدے پر ہوتے ہیں اور مسلسل کوئی واقعات ہورہے ہوتے ہیں تو وہ مستعفی ہوجاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی بات کرتے ہوئے تابش ہاشمی نے کہا کہ وہ کراچی سے قومی اسمبلی کی 15 سیٹیں اور صوبائی اسمبلی کی تقریبا 75 نشستیں ان کے پاس ہیں، چلیں مان لیتے ہیں کہ عوام کو ان کے مینڈیٹ پر شک ہے لیکن کیا انہیں خود بھی اپنے مینڈیٹ پر شک ہے؟ وہ کیوں باہر نہیں نکل رہے، انہیں کیوں یقین نہیں آرہا ہے کہ وہ کراچی میں اتنے سارے حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔تابش ہاشمی نے کہا کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں کہوں گا جیسے حکومت کو احساس ہوا کہ ان سے پی آئی اے نہیں چل پارہا تو انہوں نے وہ پرائیوٹائز کردیا، آپ اسی طرح کراچی کو بھی پرائیوٹائز کردیں، کراچی والے پٹھان، بلوچ، سندھی ، مہاجر ،پنجابی جتنے بھی لوگ ہیں ہم سب مل کر شہر خرید لیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے ہم بہت اچھا شہر چلا لیں گے، اگر اسی طرح چلنا ہے تو کیونکہ ہم اس شہر کو ان سے برا تو نہیں چلا پائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…