اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

معروف ٹک ٹاکر ذوالقرنین سکندر کو 2 کروڑ کا نقصان

datetime 18  مارچ‬‮  2024 |

لاہور(این این آئی) پاکستان کے معروف یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر ذوالقرنین سکندر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ٹریڈنگ میں تقریباََ سوا دو کروڑ روپے کا نقصان کرچکے ہیں۔حال ہی میں ٹک ٹاکر ذوالقرنین سکندر نے اپنی اہلیہ کنول آفتاب کے پوڈکاسٹ میں بطورِ مہمان شرکت کی جہاں اْنہوں نے اپنی شادی، یوٹیوب اور ٹک ٹاک کے بارے میں بات کی اور اسی پوڈکاسٹ میں ذوالقرنین سکندر نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے مالی نقصان کے بارے میں بھی بتایا۔ذوالقرنین سکندر نے کہا کہ میرا ایک دوست ٹریڈنگ سے پیسے کماتا تھا تو اْس نے مجھے بھی ٹریڈنگ کرنے کا مشورہ دیا، دوست کے مشورے پر میں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ ملکر ٹریڈنگ پر پیسہ لگایا۔

اْنہوں نے کہا کہ میری اہلیہ کنول آفتاب ٹریڈنگ کے بالکل خلاف تھیں لیکن میں نے اْن کی ایک نہ سْنی اور اپنے دوست کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑا، جب ہم تینوں بھائیوں نے ملکر ٹریڈنگ پر پیسے لگائے تو شروع میں ہمیں 31 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ذوالقرنین سکندر نے کہا کہ جب پہلا نقصان ہوا تو میرے بڑے بھائی نے ٹریڈنگ پر پیسہ لگانے سے انکار کردیا اور کنول بھی بہت غصہ ہوئی، پھر میں نے اپنے دوست کو نقصان کے بارے میں بتایا تو اْس نے کہا کہ یہ تو ہوتا رہتا ہے، تْم مزید پیسہ لگاؤ تو تْمہیں لاکھوں ڈالرز کا فائدہ ہوگا۔ٹک ٹاکر نے کہا کہ دوست کی بات سْن کر مجھے لالچ آگئی تو میں نے اپنی اہلیہ کنول سے 30 لاکھ روپے مانگے لیکن کنول نے مجھے پیسے نہیں دیے کیونکہ اْنہیں معلوم تھا کہ جس طرح پہلے نقصان ہوا ہے، اْسی طرح دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔اْنہوں نے کہا کہ جب اہلیہ نے رقم نہیں دی تو میں نے اپنے اکاؤنٹ کی ساری رقم ٹریڈنگ پر لگا دی اور ساتھ ہی میرے چھوٹے بھائی نے بھی اپنی جمع پونجی ٹریڈنگ پر لگا دی۔

ذوالقرنین سکندر نے کہا کہ اْس کے بعد ہم عْمرہ کرنے چلے گئے، وہاں جاکر چھوٹے بھائی کا فون آیا اْس نے روتے ہوئے بتایا کہ ہماری ساری رقم ڈوب گئی ہے، اس طرح ہمیں سوا دو کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ٹک ٹاکر نے کہا کہ میں نے مدینہ میں اللہ تعالیٰ سے دْعا کی کہ میرے دل و دماغ سے ٹریڈنگ کی لالچ نکال دے کیونکہ میں مزید نقصان اور پریشانی برداشت نہیں کرسکتا تھا۔اْنہوں نے مزید کہا کہ میں نے عْمرہ سے واپس آکر ہمیشہ کے لیے ٹریڈنگ چھوڑ دی اور پھر مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ٹریڈنگ حرام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…