اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

معروف گلوکار و مصنف ڈاکٹرامجد پرویز انتقال کرگئے

datetime 4  مارچ‬‮  2024 |

لاہور(این این آئی) معروف گلوکار اور کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر امجد پرویز انتقال کرگئے۔ڈاکٹر امجد پرویز ایک ماہ سے علیل تھے اور گزشتہ روز گردے فیل ہونے کے باعث وفات پاگئے۔ انکی نمازجنازہ پیر کو بعد نماز ظہر جامعہ مسجد شادمان چوک لاہور میں ادا کی گئی۔ ڈاکٹرامجد پرویز پیشے کے اعتبار سے انجنیئر، کئی اردو اورانگریز ی کتابوں کے مصنف اورسنگرتھے۔انہوں نے 1954 میں ریڈیو پاکستان کے لاہورمرکز سے پروگرام ” ہونہار” میں بطور چائلڈ آرٹسٹ پہلی مرتبہ شرکت کی اور زندگی بھر ریڈیو کے ساتھ منسلک رہے۔

وہ آج کل ریڈیو پاکستان لاہور کے پروگرام فن اور فنکار میں ملکہ ترنم نورجہاں کے فن اور شخصیت پر اپنا تجزیہ پیش کر رہے تھے۔ڈاکٹر امجد پرویز نے استاد نزاکت علی خان سے باقاعدہ کلاسیکل موسیقی کی تربیت حاصل کی، استاد سلامت علی خان، استاد غلام شبیر خان، استاد غلام جعفر خان، اختر حسین اکھیاں اورمیاں شہریار سے بھی کلاسیکل میوزک کے اسرارورموز اورباریکیوں کو سمجھا۔ 1970 کی دہائی میں ریڈیو پاکستان لاہورمرکز سے ڈاکٹرامجد پرویزکی گائی ہوئی 100 سے زائد غزلیں اورگیت نشر ہوئے۔ڈاکٹرامجد پرویز نے میوزک کے علاوہ بہت سی کتابیں بھی لکھیں۔ وہ طویل عرصہ ایک قومی اخبار میں مستقل طورپر کالم بھی لکھتے رہے، ان کالموں کو 2006 اور 2011 میں کتابی شکل میں بھی شائع کیا گیا۔

اس کے علاوہ ڈاکٹرامجد پرویز نے میلوڈی میکرز آف subcontinent نامی اپنی کتاب میں 1950 سے 1980 کی تین دہائیوں کے دوران کام کرنے والے پاک بھارت کے 47 میوزک کمپوزرز کے بارے میں تفصیل سے لکھا، یہ کتاب 2012 میں شائع ہوئی۔ڈاکٹرامجد پرویز نے میلوڈی سنگرز کے نام سے دو کتابیں لکھیں جبکہ rainbow of reflections ان کی آخری انگریز ی کتاب تھی۔ڈاکٹرامجد پرویز کو 1977 میں بہترین ٹیکنیکل پیپر لکھنے پر صدرمملکت کی جانب سے گولڈ میڈ ل، 2009 میں ڈاکٹراے کیو خان لائف ٹائم اچیومنٹ ایوار ڈ اور2000 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ڈاکٹر امجد پرویز کے انتقال پر شوبز سے وابستہ شخصیات نے اظہار افسوس کرتے ہوئے انہیں پاکستانی موسیقی کی پہچان قرار دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…