پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

تھیٹر کے بعد اب کوئی فیملی اکٹھے بیٹھ کر ٹی وی ڈرامہ بھی نہیں دیکھ سکتی،ڈرامے معاشرے کی اصلاح کی بجائے تباہی کا سبب بن رہے ہیں

datetime 13  جنوری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)نامور اداکار حسن سبحانی نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے ہم تھیٹر کی پیروی کر رہے ہیں اورتھیٹر کے بعد اب کوئی فیملی اکٹھے بیٹھ کر ٹی وی ڈرامہ بھی نہیں دیکھ سکتی، ہمارے ڈراموں کے جو موضوعات ہیں وہ معاشرے کی اصلاح کی بجائے تباہی کا سبب بن رہے ہیں اوراداکاروں کو ایسے اسکرپٹ کے حامل پراجیکٹ کے

کردار ادا کرنے سے معذرت کرنا ہو گی ۔انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے حسن سبحانی نے کہا کہ اگر ماضی کے ڈرامے دیکھے جائیں تو اس میں خاندانوںکو جوڑنا سکھایا جاتاتھا لیکن آج کے ڈراموںمیںنہ صرف رشتوں کے تقدس کو پاما ل کیا جارہا ہے بلکہ رشتوںکو توڑناسکھایا جاتا ہے ،ہرڈرامے میں صرف لڑکی اورلڑکے کی محبت ،پھر شادی ، اسکے بعد دونوں کے نئے تعلقات او رطلاق کو پیش کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس سے انکار نہیں کہ معاشرے میں ایسی کہانیاںہیںلیکن کیا ہم اس کی اصلاح کررہے ہیں بلکہ ہم تو اس کی تشہیر کر کے نوجوان نسل کوبھی اس جانب راغب کر رہے ہیں۔ حسن سبحانی نے کہا کہ لکھنے والوں کو اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیے کیونکہ ان کا لکھا ہوا معاشرے میں سرائیت کرجاتا ہے اور اس کی نشوونما بھی ہوتی ہے۔دوسری جانب نامور گلوکار عارف لوہار نے کہا ہے کہ ہمیں دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے اپنی اصلاح کا بیڑہ اٹھانا ہوگا،عام طو رپرہم دوسروںمیں خامیاں اور ان کی برائیاں تلاش کرتے ہیں اوراپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں ۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اگر پاکستان میں مثبت رجحانات کو فروغ دینا ہے تو ہمیں انفرادی طور پر بھی اپنی ذمہ داریاںنبھاناہوں گی ،ہرکوئی اپنی ذمہ داری پوری کرے دیکھیں یہی مشق اجتماعی شکل کرجائے گی

۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں میں خامیاں تلاش کرنا آسان کام ہے لیکن کسی کو اپنی خامی بتانابہت مشکل ہے ۔ اگر آپ کسی کی اصلاح کی غرض سے تصحیح کریں تویہ بھی نیکی ہے لیکن اگر اس میں دوسرے شخص کو نیچا دکھانا اور بغض اورحسد کا عنصر ہو تو اس کی تعریف نہیں کی جا سکتی ۔ عارف لوہارنے کہا کہ ہمیں معاشرے میں پیارمحبت کا کردار ادا کرنے والا بننا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…