پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

سستا گھر لینے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، نیشنل ہاؤسنگ پالیسی نافذ

datetime 5  اکتوبر‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)  وفاقی حکومت نے ملک میں سستی اور باعزت رہائش کے فروغ کے لیے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 متعارف کرا دی، جس میں بے گھر اور محدود آمدنی رکھنے والے شہریوں کو اپنے گھر کی سہولت فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

پالیسی کے اجرا کی تقریب وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہوئی، جہاں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی ہاؤسنگ پالیسی کم آمدنی والے اور بے گھر افراد کی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی فراہم کرتی ہے۔

حکومت کے مطابق نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا بنیادی مقصد عام شہریوں کے لیے ذاتی گھر کے حصول کو آسان بنانا اور ملک میں رہائشی سہولتوں کی بہتری کے ساتھ پائیدار شہری ترقی کو فروغ دینا ہے۔

پالیسی پر عملدرآمد کے لیے تمام وسائل استعمال کرنے کا اعلان

ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ہاؤسنگ پالیسی کو مؤثر انداز میں عملی شکل دینے کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری علاقوں میں رہائش کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کی جائے گی۔

وفاقی حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ رہائشی منصوبوں کے ساتھ ساتھ شہری ترقی کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا پالیسی کا اہم حصہ ہے۔

ماحول دوست رہائش بھی پالیسی کا حصہ

نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور ماحول دوست رہائش کے فروغ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق ایسے گھروں کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ بدلتے موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔

اس حکمت عملی کے ذریعے رہائشی منصوبہ بندی میں ماحول دوست اصولوں کو شامل کرنے اور شہریوں کو محفوظ، بہتر اور پائیدار رہائشی سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

کم آمدنی والے طبقے کے لیے امید کی نئی کرن

حکومت کی جانب سے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 کا اجرا ان شہریوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جو مالی مشکلات کے باعث ذاتی گھر بنانے یا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

پالیسی کے تحت مختلف ہاؤسنگ منصوبوں اور عملی اقدامات کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ کم آمدنی والے شہریوں کو گھر کے حصول کے لیے کن سہولتوں اور مواقع تک رسائی حاصل ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…