منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

سرکاری ملازمین کیلئے اہم خبر، پنشن اصلاحات کیلئے بڑا حکومتی پلان تیار

datetime 28  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): حکومت نے پنشن کے بڑھتے ہوئے مالی اخراجات کو محدود کرنے اور موجودہ نظام میں اصلاحات لانے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 50 کروڑ ڈالر قرض حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے کا نام ’’ٹرانسفارمنگ پبلک سیکٹر پنشن پروگرام‘‘ رکھا گیا ہے، جس کے تحت اے ڈی بی سے تین سالہ مدت کے لیے 50 کروڑ ڈالر کا پروگرام لون حاصل کیا جائے گا۔

دستیاب معلومات کے مطابق یہ پروگرام یکم نومبر 2026 سے شروع کرنے کی تجویز ہے اور اس کی تکمیل نومبر 2029 میں متوقع ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پروگرام کے لیے 15 کروڑ 92 لاکھ روپے کی تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی بھی تجویز ہے۔

حکومت کے مطابق وفاقی سرکاری ملازمین کا سالانہ پنشن بل بڑھ کر 1169 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، اسی لیے مجوزہ قرض پروگرام کو پنشن اصلاحات سے حاصل ہونے والے نتائج کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ پنشن نظام قومی خزانے پر مسلسل بڑھتا ہوا مالی دباؤ بن چکا ہے۔ ہر سال بجٹ سے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی ادائیگی کے باعث حکومتی مالی وسائل کا بڑا حصہ اس مد میں خرچ ہوتا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی پنشن ذمہ داریوں سے تعلیم، صحت اور انفرااسٹرکچر سمیت دیگر شعبوں کے لیے دستیاب مالی گنجائش بھی متاثر ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق حکومت نے 2024 میں نئی سرکاری بھرتیوں کے لیے کنٹری بیوشن پنشن اسکیم متعارف کرائی تھی، جبکہ پہلے سے رائج ڈیفائنڈ بینیفٹ نظام میں بھی مختلف تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نئی پنشن اسکیم کے مؤثر نفاذ اور اصلاحات کو عملی شکل دینے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے انتظامی اور مالیاتی اصلاحات متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل بھی پنشن نظام میں تبدیلیوں اور اصلاحات کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے مالی معاونت حاصل کرچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…