جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نادرا نے اپنی مختلف خدمات کی فیسوں کا نیا اسٹرکچر جاری کر دیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کے لیے مختلف شناختی دستاویزات اور متعلقہ خدمات کی تازہ فیس کا اسٹرکچر جاری کردیا ہے۔

نادرا کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق مختلف دستاویزات کی فیس سروس کی نوعیت کے اعتبار سے مقرر کی گئی ہے، جس میں نارمل، ارجنٹ اور ایگزیکٹو کیٹیگریز شامل ہیں۔ شہریوں کی سہولت کے لیے فیس کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں تاکہ دستاویزات کے حصول کے وقت انہیں مقررہ رقم کے بارے میں آگاہی حاصل ہو۔

تفصیلات کے مطابق فارم ب (سی آر سی) کے اجرا کی نارمل فیس 50 روپے ہے، جبکہ اس کی ارجنٹ سروس دستیاب نہیں۔ ایگزیکٹو کیٹیگری میں فارم ب کی فیس 500 روپے مقرر کی گئی ہے۔

جووینائل کارڈ حاصل کرنے کے لیے نارمل فیس 750 روپے، ارجنٹ فیس 1500 روپے اور ایگزیکٹو کیٹیگری کی فیس 2500 روپے مقرر کی گئی ہے۔

نادرا کے مطابق پہلی مرتبہ قومی شناختی کارڈ بنوانے والے شہریوں کے لیے نارمل سروس پر کوئی فیس عائد نہیں کی گئی۔ تاہم ارجنٹ کیٹیگری کے لیے 1150 روپے جبکہ ایگزیکٹو سروس کے لیے 2150 روپے ادا کرنا ہوں گے۔

اسمارٹ قومی شناختی کارڈ کے لیے بھی فیس کا وہی اسٹرکچر رکھا گیا ہے جو جووینائل کارڈ کے لیے مقرر ہے۔ اس کی نارمل فیس 750 روپے، ارجنٹ 1500 روپے اور ایگزیکٹو کیٹیگری کی فیس 2500 روپے ہے۔

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے نائیکوپ فیس

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نائیکوپ کی فیس مختلف ممالک کو دو زونز میں تقسیم کرکے مقرر کی گئی ہے۔

زون اے میں امریکا، یورپ اور آسٹریلیا شامل ہیں، جہاں نائیکوپ کی نارمل فیس 39 امریکی ڈالر، ارجنٹ فیس 57 ڈالر جبکہ ایگزیکٹو فیس 75 ڈالر ہے۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ، افریقا اور دیگر ایشیائی ممالک پر مشتمل زون بی کے لیے نارمل فیس 20 ڈالر، ارجنٹ 30 ڈالر اور ایگزیکٹو کیٹیگری کی فیس 40 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) کے لیے فیس دیگر دستاویزات کے مقابلے میں زیادہ رکھی گئی ہے۔ پی او سی کی نارمل سروس کی فیس 150 ڈالر، ارجنٹ کی 200 ڈالر جبکہ ایگزیکٹو سروس کی فیس 250 ڈالر مقرر ہے۔

نادرا نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شناختی دستاویزات اور دیگر خدمات کی فیس سے متعلق تازہ ترین معلومات اور مزید تفصیلات کے لیے ادارے کی سرکاری ویب سائٹ سے رجوع کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…