منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

سیرین ایئر کا پاکستان میں آپریشن مکمل بند، ایئرپورٹس سے دفاتر بھی خالی کر دیئے گئے

datetime 18  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)سیرین ایئر نے پاکستان میں اپنے تمام فضائی آپریشنز بند کردیے

جبکہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئرلائن کے لاہور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان ایئرپورٹس پر قائم دفاتر بھی خالی کرا لیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سیرین ایئر گزشتہ سال سے فضائی آپریشنز معطل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ بحال نہ کرسکی۔

ایئرلائن نے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت مختلف ایئرپورٹس پر اپنے دفاتر بند کردیے، جس کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی دفاتر خالی کرا لیے۔ذرائع کے مطابق ایئرلائن کے ذمہ لینڈنگ، ٹیک آف، پارکنگ چارجز اور دفاتر کے کرایوں سمیت دیگر مد میں کروڑوں روپے کے واجبات تھے، جو سیکیورٹی کی مد میں جمع کرائی گئی رقم سے وصول کیے گئے۔ ایئرپورٹ دفاتر خالی کرانے کے بعد یہ جگہیں دیگر ایئرلائنز کو دی جائیں گی، جبکہ سیرین ایئر انتظامیہ کو دفاتر سے اپنا ذاتی سامان جلد منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب سیرین ایئر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں، سول ایوی ایشن اتھارٹی، ٹیکس اور کرایوں کے واجبات کلیئر کردیے گئے ہیں اور ایئرلائن نے فضائی آپریشن بحال کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم ناگزیر وجوہات کے باعث آپریشن دوبارہ شروع نہیں ہوسکا۔انتظامیہ کے مطابق ایئرلائن کے پاس مطلوبہ تعداد میں طیارے موجود نہیں تھے، جبکہ دو طیارے خراب ہونے کے باعث بروقت مرمت نہ ہوسکے۔

ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے اضافی مہلت بھی دی گئی اور آپریشن بحال کرانے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا گیا، تاہم ایئرلائن نہ خراب طیارے بروقت مرمت کراسکی اور نہ ہی ان کے متبادل کے طور پر نئے طیارے حاصل کرسکی۔رپورٹ کے مطابق پائلٹس سمیت سیرین ایئر کے سیکڑوں ملازمین کو بھی کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے مسائل کا سامنا رہا، جس کے باعث ایئرلائن کے مستقبل اور ملازمین کے روزگار کے حوالے سے بھی صورتحال تشویش ناک ہوگئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…