بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی صارفین کیلیے بُری خبر؛ 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان

datetime 18  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بجلی صارفین کے لیے ایک اور تشویش ناک خبر سامنے آگئی ہے،

جس کے تحت بجلی کی قیمت میں اضافے کی صورت میں صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) نے جولائی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخ میں 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی ہے۔نیپرا کے مطابق درخواست پر باقاعدہ سماعت 27 اگست کو ہوگی۔ اگر مجوزہ اضافہ منظور کرلیا گیا تو جی ایس ٹی سمیت صارفین سے تقریباً 41 ارب روپے اضافی وصول کیے جاسکتے ہیں۔

سی پی پی اے نے اپنی درخواست میں جولائی کے دوران بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے مختلف ذرائع اور ان پر آنے والی لاگت کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں درآمدی ایل این جی سے بجلی کی مجموعی پیداوار کا 10.78 فیصد حاصل ہوا، جس کی فی یونٹ لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی، جبکہ اس مد میں مجموعی طور پر 77 ارب 19 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔فرنس آئل سے 1.42 فیصد بجلی پیدا کی گئی اور اس کی فی یونٹ لاگت 50 روپے 7 پیسے رہی۔ فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار پر مجموعی لاگت 10 ارب 77 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔اسی دوران ڈیزل سے تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ یونٹ بجلی پیدا ہوئی، جس کی لاگت 54 روپے 47 پیسے فی یونٹ رہی۔

نیوکلیئر ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کا حصہ 10.10 فیصد رہا، جبکہ اس کی فی یونٹ لاگت 3 روپے 2 پیسے بتائی گئی۔بجلی کی پیداوار میں مختلف ذرائع کا حصہجولائی کے دوران مجموعی بجلی پیداوار میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ 39.81 فیصد رہا۔ مقامی کوئلے سے 10.91 فیصد جبکہ درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 14.38 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔اب نیپرا سی پی پی اے کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار اور پیداواری لاگت کا جائزہ لے گا۔ 27 اگست کو ہونے والی سماعت کے بعد فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…