منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

بجلی صارفین کیلیے بُری خبر؛ 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان

datetime 18  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بجلی صارفین کے لیے ایک اور تشویش ناک خبر سامنے آگئی ہے،

جس کے تحت بجلی کی قیمت میں اضافے کی صورت میں صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) نے جولائی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخ میں 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی ہے۔نیپرا کے مطابق درخواست پر باقاعدہ سماعت 27 اگست کو ہوگی۔ اگر مجوزہ اضافہ منظور کرلیا گیا تو جی ایس ٹی سمیت صارفین سے تقریباً 41 ارب روپے اضافی وصول کیے جاسکتے ہیں۔

سی پی پی اے نے اپنی درخواست میں جولائی کے دوران بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے مختلف ذرائع اور ان پر آنے والی لاگت کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں درآمدی ایل این جی سے بجلی کی مجموعی پیداوار کا 10.78 فیصد حاصل ہوا، جس کی فی یونٹ لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی، جبکہ اس مد میں مجموعی طور پر 77 ارب 19 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔فرنس آئل سے 1.42 فیصد بجلی پیدا کی گئی اور اس کی فی یونٹ لاگت 50 روپے 7 پیسے رہی۔ فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار پر مجموعی لاگت 10 ارب 77 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔اسی دوران ڈیزل سے تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ یونٹ بجلی پیدا ہوئی، جس کی لاگت 54 روپے 47 پیسے فی یونٹ رہی۔

نیوکلیئر ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کا حصہ 10.10 فیصد رہا، جبکہ اس کی فی یونٹ لاگت 3 روپے 2 پیسے بتائی گئی۔بجلی کی پیداوار میں مختلف ذرائع کا حصہجولائی کے دوران مجموعی بجلی پیداوار میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ 39.81 فیصد رہا۔ مقامی کوئلے سے 10.91 فیصد جبکہ درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 14.38 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔اب نیپرا سی پی پی اے کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار اور پیداواری لاگت کا جائزہ لے گا۔ 27 اگست کو ہونے والی سماعت کے بعد فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…