کراچی(این این آئی) وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پہلی مرتبہ ہائبرڈ سکوک بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد اسلامی مالیاتی ذرائع سے سرمایہ حاصل کرنا اور حکومتی فنانسنگ کے ذرائع کو مزید وسعت دینا ہے۔وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق ہائبرڈ سکوک بانڈز کے تحت حکومت صرف اثاثے گروی رکھنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کموڈیٹی کی فروخت کے ذریعے بھی مارکیٹ سے فنانسنگ حاصل کی جا سکے گی۔ اس مقصد کے لیے حکومت کموڈیٹی کی خرید و فروخت کے عمل میں ایک تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کرے گی۔ذرائع نے بتایا کہ ہائبرڈ سکوک فنانسنگ کے ماڈل میں کموڈیٹی کو مارکیٹ میں فروخت کرکے سرمایہ حاصل کیا جائے گا، جبکہ اس منصوبے کی تفصیلات عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی شیئر کی جائیں گی۔
اس سلسلے میں وزارتِ خزانہ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) سے سکوک بانڈز کے اجرا کے لیے قابلِ استعمال اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق این ایچ اے کے اثاثوں کی مجموعی مالیت کا ابتدائی تخمینہ 7 ہزار ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے، جس کی بنیاد پر سکوک بانڈز کے اجرا کی گنجائش کا تعین کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال این ایچ اے کے اثاثوں کی مالیت کا تخمینہ تقریباً ساڑھے 5 ہزار ارب روپے لگایا گیا تھا، تاہم حالیہ نظرثانی کے بعد ان اثاثوں کی مالیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیشِ نظر حکومت مزید مالیت کے سکوک بانڈز جاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔



















































