اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال نے عالمی تیل منڈی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے،
جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر مرتب ہونے لگے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی آئل مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت تیزی سے بڑھی ہے۔ ایران میں جاری کشیدگی نے توانائی کے شعبے کو کئی دہائیوں کے بڑے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔حملوں اور تہران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں نے نہ صرف وسیع علاقائی جنگ کے خدشات کو تقویت دی ہے بلکہ عالمی سطح پر تیل کی رسد اور طلب کے توازن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی پیداوار یا ترسیل کے اہم راستے متاثر ہوئے تو خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات برقرار رہے تو قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی حد بھی عبور کر سکتی ہیں۔ اتوار کو اوور دی کاؤنٹر ٹریڈنگ کے دوران بھی برینٹ کروڈ میں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کے مطابق صورتحال کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش ہے۔
توانائی اور ریفائننگ کے ادارے آئی سی آئی ایس کے ڈائریکٹر اجے پرمار کا کہنا ہے کہ اگر یہ گزرگاہ مکمل طور پر بند ہو گئی تو روزانہ 80 سے 100 لاکھ بیرل خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جو عالمی منڈی کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔دوسری جانب تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک پلس نے اپریل سے یومیہ 2 لاکھ 6 ہزار بیرل اضافی پیداوار کا اعلان کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی طلب کے مقابلے میں نہایت معمولی، یعنی 0.2 فیصد سے بھی کم ہے۔اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث سپلائی چین میں رکاوٹ کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر جا سکتی ہیں۔تجارتی ذرائع کے مطابق تہران کی جانب سے جہاز رانی کے لیے انتباہ جاری کیے جانے کے بعد کئی ٹینکر مالکان، آئل کمپنیاں اور تجارتی ادارے اس راستے سے خام تیل، ایندھن اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل روک چکے ہیں۔ یاد رہے کہ دنیا کے 20 فیصد سے زائد تیل کی ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے کی جاتی ہے، جس کی بندش عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔



















































