اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ہم شہری اور دیہی علاقوں میں برابر لوڈ شیڈنگ کر رہے ہیں،
خلیجی جنگ کے بعد گیس نہ ملنے سے بھی بجلی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوا۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کو بجلی کی صورت حال سے متعلق آگاہ کرنا ہے، ہم شہری اور دیہی علاقوں میں برابر لوڈ شیڈنگ کر رہے ہیں،موجودہ لوڈ شیدنگ پر عوام کو تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عوام کو اندھیروں سے نکالا ہے، ملک میں سولر اور قابل تجدید توانائی کو فروغ دیا۔اویس لغاری نے کہا کہ ایل این جی معطلی سے فیول میں قلت آئی، پن بجلی کی پیداوار میں کمی ہوگئی ہے، پن بجلی میں 1600 میگاواٹ کے قریب شارٹیج ہے، ایل این جی نہ ملنے سے بھی 3000 میگاواٹ سے زائد قلت ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ اپریل میں بجلی کی طلب 9 ہزار سے 20 ہزار میگاواٹ رہی، بجلی طلب جب ساڑھے 16 ہزار میگاواٹ سے اوپر جاتی ہے تو لوڈ شیڈنگ بڑھ جاتی ہے، پن بجلی کی پیداوار بڑھنے سے لوڈشینگ ختم ہوجائے گی۔
انہوںنے کہاکہ 1400 میگاواٹ بجلی فرنس آئل سے پیدا کر رہے ہیں، بجلی لوڈشیڈنگ کی وجہ عارضی ہے۔ چند روز قبل ڈھائی گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا اعلان بجلی کی قیمتیں روکنے کیلئے کیا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 500 میگاواٹ کی قلت سے ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ بڑھتی ہے، صنعتی شعبے کیلئے بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کر رہے ہیں۔ حیدرآباد اور کیالیکٹرک کیلئے لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی۔ کیالیکٹرک نیشنل گرڈ سے 2100 میگاواٹ بجلی لے رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ عالمی سطح پر حالات بہتر ہو رہے ہیں، امید ہے ملک میں پن بجلی کی پیداوار بھی بڑھے گی۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر امریکا ایران جنگ کے بعد بھی لوڈ شیڈنگ ہوئی تو پھر کون ذمہ دار ہوگا؟ جس پر وفاقی وزیر بولے کہ پھر میں ذمہ دار ہوں گا۔



















































