اسلام آبا د (نیوز ڈ یسک) ڈیجیٹل ادائیگی کے پلیٹ فارم ایزی پیسہ کی جانب سے کیش بیک آفر متعارف کرائے جانے کے بعد صارفین میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا یہ سہولت شرعی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔دستیاب معلومات کے مطابق ایزی پیسہ صارفین کو پیشکش دی جا رہی ہے کہ اگر وہ اپنے اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپے برقرار رکھیں اور موبائل بیلنس لوڈ کروائیں تو انہیں دو سو روپے بطور کیش بیک واپس ملیں گے۔ اس آفر پر متعدد افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس طرح کا فائدہ حاصل کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہے۔
دینی ماہرین اور فقہی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قرض کے بدلے نفع حاصل کرنے کے دائرے میں آتا ہے، جسے شریعت میں ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جب صارف اپنی رقم کسی مالی ادارے کے پاس جمع کرواتا ہے تو وہ رقم دراصل قرض کی حیثیت رکھتی ہے، اور قرض پر مشروط اضافی فائدہ لینا یا دینا شرعاً درست نہیں۔علمائے کرام کی وضاحت کے مطابق اگر کسی ادارے کے پاس رکھی گئی رقم پر پہلے سے طے شدہ شرط کے تحت کیش بیک، بونس یا کسی اور شکل میں اضافی رقم دی جائے تو وہ سود سے مشابہ ہو جاتا ہے، چاہے اسے کسی بھی نام سے پیش کیا جائے۔















































