منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ایزی پیسہ کی اپنے صارفین کیلئے بڑی آفر لگا دی

datetime 19  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آبا د (نیوز ڈ یسک) ڈیجیٹل ادائیگی کے پلیٹ فارم ایزی پیسہ کی جانب سے کیش بیک آفر متعارف کرائے جانے کے بعد صارفین میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا یہ سہولت شرعی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔دستیاب معلومات کے مطابق ایزی پیسہ صارفین کو پیشکش دی جا رہی ہے کہ اگر وہ اپنے اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپے برقرار رکھیں اور موبائل بیلنس لوڈ کروائیں تو انہیں دو سو روپے بطور کیش بیک واپس ملیں گے۔ اس آفر پر متعدد افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس طرح کا فائدہ حاصل کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہے۔

دینی ماہرین اور فقہی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قرض کے بدلے نفع حاصل کرنے کے دائرے میں آتا ہے، جسے شریعت میں ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جب صارف اپنی رقم کسی مالی ادارے کے پاس جمع کرواتا ہے تو وہ رقم دراصل قرض کی حیثیت رکھتی ہے، اور قرض پر مشروط اضافی فائدہ لینا یا دینا شرعاً درست نہیں۔علمائے کرام کی وضاحت کے مطابق اگر کسی ادارے کے پاس رکھی گئی رقم پر پہلے سے طے شدہ شرط کے تحت کیش بیک، بونس یا کسی اور شکل میں اضافی رقم دی جائے تو وہ سود سے مشابہ ہو جاتا ہے، چاہے اسے کسی بھی نام سے پیش کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…