پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا کرپٹو کرنسی کے انتظام اور تحفظ کیلئے بڑا قدم

datetime 3  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی کابینہ نے ایک نئی سرکاری کمپنی ’’اسٹریٹیجک ڈیجیٹل والٹ کمپنی‘‘ کے قیام کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد حکومت کے ورچوئل اثاثوں کو محفوظ بنانا اور ان کا مؤثر انتظام کرنا ہے۔موصولہ تفصیلات کے مطابق یہ ادارہ کمپنیز ایکٹ 2017 کی شق 42 کے تحت ایک نان پرافٹ آرگنائزیشن کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے اور اس کی رجسٹریشن سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) میں کی جائے گی۔ یہ اقدام پاکستان کرپٹو کونسل کی تجویز پر اٹھایا گیا ہے جس نے سرکاری ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ کے لیے کرپٹو والٹ کے قیام کی سفارش کی تھی۔

حکومتی دستاویزات کے مطابق کمپنی کے ابتدائی تین ڈائریکٹرز میں فنانس ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری تیمور حسن، کابینہ ڈویژن کی جوائنٹ سیکریٹری حمیرا اعظم خان اور لاء اینڈ جسٹس ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری عامر محمد خان نیازی شامل ہیں۔ مزید برآں، احمد تیمور حسن کو کمپنی کا پہلا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اضافی چارج پر تعینات کیا گیا ہے۔یہ کمپنی ورچوئل ایسٹ آرڈیننس 2025 کے نفاذ کے بعد قائم کی جارہی ہے، جو ورچوئل اثاثوں اور ان سے وابستہ سروس فراہم کرنے والوں (VASPs) کے لیے پاکستان میں ایک جامع قانونی ڈھانچہ مہیا کرتا ہے۔ اس آرڈیننس کو نہ صرف بلاک چین پر مبنی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس سے شفافیت، قوانین کی پاسداری اور قومی سلامتی کو بھی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔اسٹریٹیجک ڈیجیٹل والٹ مستقبل میں حکومت کے ڈیجیٹل اثاثوں کے مرکزی انفراسٹرکچر کے طور پر کام کرے گا اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے ٹوکنائزڈ سرکاری بانڈز، خود مختار ڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین بیسڈ کراس بارڈر ٹرانزیکشنز جیسے منصوبوں کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…