جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں مختلف سرکاری ادارے رکاوٹ بن گئے

datetime 17  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان میں کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری میں مختلف سرکاری ادارے رکاوٹ بن گئے، وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام معاملات کو حل کروانے میں بے بس ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا اجراء ایک خواب بنتا جارہا ہے، ملک میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا اجرا روایتی تعطل کا شکار ہوچکا ہے حالانکہ عالمی کمپنیوں کی آمد سے پاکستان میں تیز انٹرنیٹ اور ڈیجیٹلائزیشن ہوگی۔پاکستان میں کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری میں مختلف سرکاری ادارے رکاوٹ بن گئے ہیں ،وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام معاملات کو حل کروانے میں بے بس نظر آرہی ہے۔وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کی رجسٹریشن پر تاخیر کے حوالے سے جواب دینے سے گریزاں ہیں۔

معتبر ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں 5 عالمی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیاں کام کیلئے تیار ہیں، پانچوں کمپنیوں کی رجسٹریشن پاکستان اسپیس ایکٹویٹیز ریگولیٹری بورڈ (پی ایس اے آر بی) کی سست روی سے تاخیر کا شکار ہیں۔سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں میں ون ویب (ایوٹل سیٹ گروپ)،ایمیزون (کوائپر)، اسپیس سیل(ایس ایس ایس ٹی)،اسٹار لنک اور ٹیلی سیٹ شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ریگولیٹری فریم ورک تاحال حتمی شکل نہیں دے سکے ہیں، تاحال ریگولیٹری فریم ورک منظور نہ ہونے سے وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن پر سوالات اٹھنے لگ گئے ہیں۔

ریگولیٹری فریم ورک سست روی سے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، ڈیجیٹلائزیشن منصوبے تاخیر کا شکار ہیں جب کہ فریم ورک جلد مکمل نہ ہوا تو سروسز کے آغاز میں مزید تاخیر ہونے کا خدشہ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ رواں سال نومبر، دسمبر میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز شروع کرنے کا دعویٰ کرچکی ہیں۔میڈیا کی طرف سے اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے پی ایس اے آر بی حکام اور وفاقی وزیر آئی ٹی کو الگ الگ سوالنامہ بھیجا گیا تھا۔پاکستان اسپیس ایکٹویٹیز ریگولیٹری بورڈ حکام نے بتایا کہ سیٹلائٹ ریگولیشنز کا ڈرافٹ تیار ہوچکا ہے، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے ، ریگولیٹری فریم ورک کو حتمی شکل دینے اور اسے منظور کرانے میں مزید وقت درکار ہے تاہم متعدد سوالات پر وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…