جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ تنزلی کا شکار

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)ریگولیٹری اور اقتصادی رکاوٹوں کے ساتھ خیبر پختونخوا کے ذریعے تجارت پر 2فیصد انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس، ایس آر او 1397، 1380 اور 1402 کے اجرا کے بعد پاکستان اور افغانستان کے ساتھ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ تنزلی کا شکار ہے۔پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے بتایاکہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو دوطرفہ اور ٹرانزٹ برآمدات میں خطرناک حد تک کمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی تجارتی مسابقت اور علاقائی اقتصادی استحکام کو بری طرح نقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر فعال بینکاری چینلز اور سرحدی گزرگاہوں پر یومیہ بنیادوں پر آپریشنل چیلنجز کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2.5ارب ڈالر کی باہمی تجارت کو 7ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف حاصل کرنے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت نہ صرف تنزلی کی جانب گامزن ہے بلکہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ بھی متاثر ہوگئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک افغان جوائنٹ چیمبر کا قیام پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ، تجارت دوست پالیسیوں کی وکالت اور سرحد پار تجارتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا ہے، جنید ماکڈا نے کہا ہے کہ 2فیصد سیس عائد ہونے اور موجودہ اقتصادی دبا وسطی ایشیائی ممالک اور افغانستان سے کارگو کو ریورس کر سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…