اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

درآمدات زیادہ، برآمدات کم ، تجارتی خسارہ تشویشناک حد تک پہنچ گیا

datetime 8  جولائی  2020 |

لاہور(این این آئی )تاجر رہنما و ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس وانڈسٹری سابق وائس چیئرمین فرایا شہباز اسلم نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال2019-20(جولائی تا جون )کے درمیان درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہونے سے پاکستان کا تجارتی خسارہ23ارب19کروڑ ڈالر کی کمی کے ساتھ 27ارب ڈالر رہنا تشویشناک ہے ،گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی برآمدات21ارب 38کرو ڑ ڈالر رہیں جبکہ 44ارب 57کروڑ ڈالر کی مصنوعات درآمد کی

گئیں اس طرح پاکستان کی برآمدات میں6.84فیصد کمی ہوئی۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے فائونڈ ر چیئرمین عدنان بٹ،ارشد بیگ،تنویر احمد،حقیق احمد،شاہد بیگ اور دیگر صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی تجارتی پالیسی میں تاخیر برآمدات میں کمی کا باعث ہے وزیراعظم پاکستان کا وزرات تجارت کو نئی تجارتی پالیسی جاری کرنے کا ٹائم فریم دینا خوش آئند ہے ۔شہباز اسلم نے کہا کہ برآمدات کی بحالی اور توسیع کے سلسلہ فوری اقدامات کی ضرورت ہے اس ضمن میں پاکستانی مصنوعات کے لیے بیرون ملک نئی منڈیوں کی تلاش اور بیرون ملک سفارتخانوں کو فعال کیا جائے تاکہ وہ بیرون ملک پاکستانی مصنوعا ت کی کھپت اور برآمدات میں اضافہ کیلئے اپنا اہم کردار ادا کریں ۔ انہوںنے کہا کہ تجارتی خسارہ میں کمی اور حکومت کی طرف سے پانچ سالوں میں برآمدات کا ہدف46ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے کیلئے نئی تجارتی پالیسی میں صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے تاکہ پاکستانی اشیاء کی بیرون ملک کھپت میں اضافہ سے برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خسارہ میں کمی ہوسکے۔  فرایا شہباز اسلم نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال2019-20(جولائی تا جون )کے درمیان درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہونے سے پاکستان کا تجارتی خسارہ23ارب19کروڑ ڈالر کی کمی کے ساتھ 27ارب ڈالر رہنا تشویشناک ہے ،گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی برآمدات21ارب 38کرو ڑ ڈالر رہیں جبکہ 44ارب 57کروڑ ڈالر کی مصنوعات درآمد کی گئیں اس طرح پاکستان کی برآمدات میں6.84فیصد کمی ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…