کورونا نے پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ کو تاریخ کے سخت ترین چیلنج سے دوچار کردیا

  جمعہ‬‮ 22 مئی‬‮‬‮ 2020  |  23:46

کراچی (این این آئی)کرونا کی عالمی وبائاور کلائمنٹ چینج کے اثرات نے پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ کو تاریخ کے سخت ترین چیلنج سے دوچار کردیا ہے۔ کلائمنٹ چینج کے اثرات کی وجہ سے مقامی سطح پر آم کی پیداوار میں کمی کے ساتھ انٹرنیشنل مارکیٹ میں کساد بازاری، لاک ڈاؤن کی وجہ سے طلب میں کمی اور فضائی آپریشن محدود ہونے کے ساتھ فریٹ میں غیرمعمولی اضافہ نے آم کی ایکسپورٹ کو سنگین خدشات سے دوچار کردیا ہے۔ پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے رواں سیزن آم کی ایکسپورٹ کا ہدف 80ہزار ٹن تک محدود کردیا ہے جو


گزشتہ سال کی ایک لاکھ 30ہزار ٹن کی ایکسپورٹ کے مقابلے میں 50ہزار ٹن کم ہے۔ ایکسپورٹ کے ہدف میں کمی کے ساتھ ہی آم کی ایکسپورٹ سے حاصل ہونے والے ریونیو میں بھی نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گزشتہ سیزن ایک لاکھ تیس ہزار ٹن آم کی ایکسپورٹ سے 9کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا تھا جو رواں سیزن 5کروڑ ڈالر تک محدود رہنے کا خدشہ ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق کرونا کی عالمی وبائکی وجہ سے پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ کا سیزن بے یقینی کا شکار ہے۔ آم کی ایکسپورٹ 40فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کرونا کی عالمی وبائکی وجہ سے یورپ امریکا سمیت پاکستانی آم کی خریدار منڈیاں بند پڑی ہیں لاک ڈا?ن کی وجہ سے ایئرلائنز، سیاحت، ہوٹلنگ اور شاپنگ سینٹرز بند ہونے سے دیگر اشیائکی طرح آم کی کھپت بھی متاثر ہوگی۔ دوسری جانب فضائی آپریشن محدود ہونے کی وجہ سے فضائی کمپنیوں نے فضائی کرایوں میں تین گنا اضافہ کردیا ہے گزشتہ سیزن 175 روپے فی کلو کرایہ وصول کرنے والی ایئرلائنز رواں سیزن یورپ کے لیے 550 روپے فی کلو کرایہ طلب کررہی ہیں اسی طرح خلیجی ریاستوں کے لیے 80روپے فی کلو کا کرایہ اب بڑھا کر 240روپے فی کلو کردیا گیا ہے جس سے آم کی ایکسپورٹ کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ وحید احمد کے مطابق ملک سے 55فیصد آم سمندر کے راستے، 20 فیصد فضائی راستے اور 25 فیصد زمینی راستے سے ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔فضائی کمپنیوں کی جانب سے فریٹ میں ہوشربا اضافہ کی وجہ سے فضائی راستے سے آم کی ایکسپورٹ میں 70فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب ایران اور افغانستان کو زمینی راستے سے آم کی ایکسپورٹ بھی لاک ڈا?ن یا کرونا کی وبائکی روک تھام کے پیش نظر سرحدوں کی بندش سے مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔ پاکستانی آم کے خریدار بہت سے ممالک کے لیے فضائی آپریشنز تاحال بحال نہیں ہوئے اسی طرح جو فضائی آپریشن کھل رہے ہیں وہاں بھی پروازوں کے شیڈول کی تبدیلی جیسے خدشات کا سامنا ہے جس سے ایکسپورٹ کو درپیش مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ پاکستانی ایکسپورٹرز فریٹ کی بلند لاگت کا بوجھ اٹھاکر یورپ تک آم پہنچابھی دیں تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ مذکورہ شپمنٹس بروقت کلیئر کرالی جائیں اور خریداروں تک پہنچائی جاسکیں۔ پاکستان سے صرف تازہ آم ہی نہیں بلکہ آم سے تیار شدہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات مینگو پلپ کی ایکسپورٹ اور مقامی کھپت میں بھی کمی آنا شروع ہوگئی ہے جس کے اثرات سیزن کے دوران مزید پختہ ہوجائیں گے، ہوٹلنگ، سیاحت، فضائی سفر اور شاپنگ سینٹر بند ہونے کی وجہ سے جوسز کی طلب گرچکی ہے جس کی وجہ سے مینگو پلپ کی ایکسپورٹ اور مقامی طلب میں بھی کمی آرہی ہے، پاکستان سے مینگو پلپ خریدنے والی عالمی کمپنیوں نے اپنے آرڈرز پہلے ہی محدود کرنا شروع کردیے ہیں اور مقامی سطح پر بھی جوسز کا استعمال کم ہورہا ہے۔ مجموعی طور پر مینگو پلپ کی ایکسپورٹ اور مقامی فروخت 35فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے۔ وحید احمد کے مطابق کرونا کی وبائنے رواں سال سر اٹھایا لیکن پاکستان میں کلائمنٹ چینج کے اثرات گزشتہ پانچ سال سے آم کی فصل پر مرتب ہورہے ہیں آم کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے اور موسم کی تبدیلیوں کی وجہ سے آم کی فصل تیار ہونے کے وقت میں دو ہفتوں کا اضافہ ہوچکا ہے آم کی فصل تاخیر سے تیار ہورہی ہے ساتھ ہی آم میں بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کم ہورہی ہے۔ ان عوامل کی وجہ سے رواں سیزن بھی آم کی پیداوار میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ آم کی پیداوار میں پنجاب کا حصہ 70فیصد ہے جہاں رواں سیزن 35فیصد پیداوار کم رہی اسی طرح سندھ کا شیئر مجموعی پیداوار میں 29فیصد ہے جہاں آم کی پیداوار رواں سیزن 15فیصد کم رہی۔ وحید احمد کے مطابق کلائمنٹ چینج کے زرعی شعبے بالخصوص بڑی فصلوں اورپھلوں کی پیداوار پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تاحال کوئی جامع ریسرچ نہیں کی گئی جس کی روشنی میں کسانوں اور کاشتکاروں کو رہنمائی فراہمی کی جاسکے اور پیداوار میں کمی اور نقصانات کو روکا جاسکے، پی ایف وی اے نے ویژن 2030کے تحت صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے لیے جامع روڈ میپ دیا ہے جس پر وفاق اور صوبائی حکومتیں عمل کرکے پاکستان کے زرعی شعبہ کو کلائمنٹ چینج کے اثرات سے محفوظ بناسکتی ہیں۔وحید احمد نے کہا کہ پاکستان سے آم ایکسپورٹ کرنے والی کمپنیوں کو اس طرح کے حالات اور چیلنجز کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا، خریدار ملکوں کی صورتحال انتہائی بے یقینی کا شکار ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹرز محتاط ہیں اور پھونک پھونک کر قدم اٹھارہے ہیں بالخصوص فضائی راستے سے ایکسپورٹ پر فریٹ چارجز میں غیرمعمولی اضافہ نے ایکسپورٹرز کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے اور زیادہ تر سمندر کے راستے سے سے روایتی منڈیوں تک ایکسپورٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وحید احمد نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ آم کی ایکسپورٹ کو نقصانات سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ایکسپورٹرز کو فضائی راستے سے ایکسپورٹ پر فریٹ کی مد میں سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ پاکستان بیرونی منڈیوں بالخصوص یورپ اور امریکا میں کرونا کی وجہ سے پیدا ہونیو الے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اپنا مقام برقرار رکھ سکے۔ اسی طرح مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے فوائد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کی شکل میں ایکسپورٹرز کو منتقل کرنے کے لیے حکومت اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ایندھن کی قیمت کم ہونے کے باوجود مقامی گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کسی قسم کی کمی نہیں لائی گئی۔ وحید احمد نے کہا کہ کرونا کی وبائکی روک تھام کے لیے آم کے باغات سے لے کر فیکٹریوں، دفاتر، پیک ہا?سز میں حفاظتی اقدامات کی وجہ سے بھی کاروباری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے، وفاقی حکومت کرونا کے حفاظتی اقدامات پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی ایکسپورٹرز کو مدد فراہم کرے حفاظتی ماسک، سینیٹائرز، درجہ حرارت چیک کرنے کے آلات اور حفاظتی لباس اور دیگر سازوسامان فراہم کرکے انڈسٹری کو درپیش اسی چیلنج کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کے مقررہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے ایکسپورٹ سے جڑے ہوئے تمام اداروں، پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ، کسٹم، سی پورٹ اور ایئر پورٹ اتھارٹیز کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔


موضوعات: