جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ،رمضان میں مہنگائی کا سونامی آئے گا‘ آل پاکستان انجمن تاجران

datetime 5  مئی‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)آل پاکستان انجمن تاجران نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے رمضان المبارک میں مہنگائی کا سونامی آئے گا ، مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اور ان کے اندر پکنے والا کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔

وزراء قیمتوں کا چین ، ترکی اور دیگر ممالک سے موازنہ کرتے وقت یہ بھی بتایا کریں کہ وہاں کی حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے عوام کس قدر خوشحال ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی صدر اشرف بھٹی نے اپنے دفتر میں مختلف مارکیٹوں کے عہدیداروں کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے جس سے کاروبار میں شدید مندی کا رجحان ہے ۔ رمضان المبارک سے قبل پیٹرولیم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ قابل مذمت ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے فی الفور واپس لیا جائے ۔حکومت پیٹرولیم پر وصول کئے جانے والے ٹیکسز کی صورت میں اپنے منافع میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دے ۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ حکومت نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے پہلے پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کو التواء میں رکھا اور پھر یکدم طے شد ہ فارمولے کے مطابق اضافہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم ،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کررہی ہے جس سے عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے پیداوری لاگت اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا لیکن حکومت اس طرف توجہ دینے کیلئے تیار نہیں جو تشویش کا باعث ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…