جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی تاجر جرمنی میں تجارتی میلوں اور نمائشوں میں شرکت کریں : میٹ تھیاس تھیز

datetime 13  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) پاکستان جرمنی میں ہونے والے بڑے تجارتی میلوں اور نمائشوں میں شرکت کرکے عالمی منڈی میں زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جرمنی میں پاکستان کے اعزازی قونصل میٹ تھیاس تھیز نے لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر

خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔ جمیل اے ناز، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین میاں زاہد جاوید، ڈاکٹر شاہد رضا، شہزاد اسلم اور عاقب جاوید بھی اجلاس میں موجود تھے۔ میٹ تھیاس تھیز نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو یورپ میں تجارتی میلوں اور نمائشوں میں لازما شرکت کرنی چاہیے، تجارتی میلے اور نمائشیں جرمنی کی برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے چیمبرز کے درمیان مضبوط روابط باہمی تجارت کو نئی بلندیوں پر لے جاسکتے ہیں۔ لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ جرمنی پاکستان کا اہم تجارتی حصے دار ہے، پاکستان کے لیے درآمدات کے حوالے سے جرمنی گیارہویں جبکہ برآمدات کے حوالے سے پانچویں نمبر پر ہے، یہ خوش آئند ہے کہ دوطرفہ تجارت کا حجم گزرتے وقت کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017ء میں باہمی تجارت کا حجم 2.4ارب ڈالر تھا جو 2018ء میں بڑھ کر 2.62ارب ڈالر ہوگیا۔ خواجہ شہزاد ناصر اور فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو بین الاقوامی تجارتی میلوں اور نمائشوں میں بھرپور حصہ لینا چاہیے جس سے انہیں نئے تجارتی پارٹنرز ملیں گے اور اپنی مصنوعات عالمی سطح پر متعارف کروانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حصول میں جرمنی نے قابل ستائش کردار ادا کیا، پاکستان میں انرجی کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی جرمنی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ خواجہ شہزاد ناصر اور فہیم الرحمن سہگل نے مزید کہا کہ جرمنی سرمایہ کار پاکستان میں آئل اینڈ گیس، فوڈ، ڈیری پراسیسنگ اور انجینئرنگ سمیت دیگر شعبوں سے بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…