جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اوپن کرنسی مارکیٹ ، پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قدر مزید کم ہوگئی، سونا مہنگا ہوگیا

datetime 9  مارچ‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) ہفتہ کو مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر گھٹ گئی ۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ہفتہ کو روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں20پیسے کی کمی واقع ہوئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید 138.50روپے سے کم ہو کر 138.30روپے اور قیمت فروخت139روپے سے کم ہو کر138.80روپے ہو گئی

اسی طرح 80پیسے کی کمی سے برطانوی پونڈ کی قیمت خرید 181روپے سے کم ہو کر180روپے اور قیمت فروخت182.80روپے سے کم ہو کر 182روپے ہو گئی جبکہ20پیسے کے اضافے سے یورو کی قیمت خرید 155روپے سے بڑھ کر155.20روپے اور قیمت فروخت 156.80روپے سے بڑھ کر157روپے ہو گئی ۔فاریکس ایسوسی ایشن کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران انٹربینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر11پیسے گھٹ گئی جبکہ مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں20پیسے کی کمی واقع ہوئی ۔زیر تبصرہ مدت میں یورو اور برطانوی پونڈ کی قدر میں بالترتیب 80پیسے اور1.80روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔انٹرنیشنل گولڈ مارکیٹ میں ہفتہ کو5ڈالر کے اضافے سے فی اونس سونے کی قیمت1298ڈالر ہو گئی جس کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونا مہنگا ہو گیا ۔آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو ملکی صرافہ مارکیٹ میں ایک تولہ سونا 150 روپے مہنگا ہو کر68ہزار900روپے جبکہ 10گرام سونا129روپے مہنگا ہو کر59ہزار71روپے کاہو گیا ۔ایسوسی ایشن کی ہفتہ واررپورٹ کے مطابق زیرہ تبصرہ مدت میں عالمی صرافہ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں10ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا جس کے بعد اس عرصے میں ایک تولہ سونے کی قیمت250روپے اور 10گرا م سونے کی قیمت 215روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…