جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

گزشتہ دور کی طرح موجودہ حکومت کا بھی شرح نمو 5.8 فیصد برقرار رکھنے کا ہدف

datetime 8  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے آئندہ برس زرعی شعبے کی ابتر صورتحال کے باعث اپنی 5 سالہ مدت کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح نمو اوسطاً 5.8 فیصد تک برقرار رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے، یہ وہ ہی اعداد و شمار ہیں جس پر گزشتہ حکومت نے اقتدار چھوڑا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ بات پلاننگ کمیشن کی جانب سے وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات خسرو بختیار کی

سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں حال ہی میں حتمی شکل دیے جانے والے بارہویں 5 سالہ منصوبے کا حصہ ہے۔ ان منصوبے کا مقصد 23-2018 کی مدت کے دوران مجموعی ملکی پیداوار کی اوسطاً شرح 5.8 تک کرنا ہے، اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ اس شرح نمو کا اندازہ زرعی شعبے کے 3.6 فیصد کے حساب سے ترقی کرنے کی بنیاد پر لگایا گیا، اسی طرح صنعتی ترقی کی شرح 6.1 فیصد جبکہ سروس کے شعبے میں اوسطاً ترقی 6.8 فیصد رہنےکا امکان ہے۔ یہ مسودہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت میں قومی اقتصادی کونسل نے گزشتہ برس اپریل میں منظور کیا تھا جس میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اس کے باضابطہ اجرا سے قبل اسے آئندہ حکومت کی جانب سے پیش کیا جاسکتا ہے۔ مذکورہ مسودے میں مجموعی ملکی پیداوار کا سال 19-2018 کے دوران لگایا گیا تخمینہ 6.2 فیصد تھا جس میں زرعی شعبے کی جانب سے 3.8 فیصد، صنعت کے شعبے سے 7.6 فیصد جبکہ سروسز کے شعبے سے 6.5 فیصد حصہ بھی شامل ہے۔ اس ضمن میں ایک سینیئرحکومتی عہدیدار نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے لیے شرح نمو میں واضح کمی دیکھی گئی ہے اور یہ 3.2 فیصد کے ہدف سے کم ہو کر 4.2 فیصد تک کم ہوچکی ہے۔ اس میں موجودہ حکومت کی جانب سے مالی استحکام کے لیے اپنائی جانے والی پالیسیز بھی شامل ہیں کیوں کہ یہ گزشتہ خسارہ گزشتہ مالی سال کے اختتال پر متوقع مالی خسارے سے کہیں زیادہ ہے جس کی وجہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی یم ایف) سے لیا جانے والامتوقع فنڈ بھی ہے۔ عہدیدار کامزید کہنا تھا کہ مسودے کی منظوری کے وقت اس کے بارے میں صوبوں کو مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا چناچہ وزیر منصوبہ بندی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص صوبوں سے اس سلسلے میں مشاورت کے لیے رابطہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…