پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ میں گیس کی کمی کو بہت جلد پورا کر لیا جائے گا : ایس ایس جی سی ایل

datetime 26  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو یقین دہانی کروائی ہے کہ سندھ میں گیس کی کمی کو بہت جلد پورا کر لیا جائے گا، تاہم انہوں نے اس کی حتمی وقت کے بارے میں نہیں بتایا۔  رپورٹ کے مطابق سینیٹر محسن عزیز کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا جس میں منیجنگ ڈائریکٹر

(ایم ڈی) ایس ایس جی سی محمد امین نے بھی شرکت کی۔ ایم ڈی ایس ایس جی سی نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ میں اس وقت گیس کی قلت گیس فیلڈ سے آنے والی مقدار میں کمی کی وجہ سے ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کمپنی کو گیس فیلڈ سے یومیہ 115 ملین کیوبک فٹ (ایم ایم سی ایف ڈی) کی کمی کا سامنا ہے ۔ ایم ڈی ایس ایس جی سی نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے کم ہوتے گیس کے ذخائر کی وجہ سے 80 ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی جبکہ کنار اور گمبٹ میں گیس سپلائی میں کمی کی وجہ سے بقیہ شارٹ فال کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ جو پاور پلانٹس اکتوبر سے دسمبر تک کم گیس فراہم کرتے رہے ان کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ ایم ڈی ایس ایس جی سی نے قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو آگاہ کیا کہ ملک میں طویل عرصے سے گیس کے مزید ذخائر دریافت نہیں کیے گئے ہیں جبکہ جو ذخائر موجود ہیں ان میں بھی کمی واقع ہورہی ہے۔ تاہم سینیٹرز نے سندھ کے مختلف اضلاع میں گیس پریشر میں کمی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ بلوچستان کے علاقے قلات، مستونگ اور زیارت میں گیس کی لوڈ شیڈنگ سے متعلق کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اجلاس کے دوران گیس کمپنی کے لائن نقصانات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی اور ایس ایس جی سی نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ 16-2015 کے دوران 46 ہزار 9 سو 52 ایم ایم سی ایف یومیہ، 17-2016 کے دوران 39 ہزار 5 سو 47 ایم ایم سی ایف یومیہ اور 18-2018 کے دوران 39 ہزار 2 سو 68 ایم ایم سی ایف یومیہ کا لائن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے برعکس سوئی نادرن گیس کمپنی لائن نقصانات سوئی سدرن کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…