جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

حکومتی دعوےڈھکوسلہ نکلے، برآمدات میں کمی ، گزشتہ دو ماہ میں پاکستان آنیوالی رقم میں کتنے کروڑ  ڈالرز کی کمی، مالیاتی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، اقتصادی ماہرین نے خطرناک انتباہ جاری کر دیا

datetime 12  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومتی دعوئوں کے باوجود برآمدات اور ترسیلات زر میں کمی، مالیاتی بحران مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتا ہے ، اقتصادی ماہرین نے خدشات کا اظہار کر دیا۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق برآمدات بڑھانے کیلئے حکومت کے بلند و بانگ دعوئوں کے باوجود نومبر 2018میں گزشتہ سال اسی عرصہ کے مقابلے میں ساڑھے 12کروڑ ڈالرز6.35فیصد اور

ترسیلات زر میں پہلے ہی 40کروڑ ڈالرز کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ جس سے ادائیگیوں میں توازن مزید بگڑ گیا۔ دوسری جانب حکومت اسی تناسب سے درآمدات میں کمی نہیں لا سکی۔ سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ نومبر 2018میں گزشتہ سال اسی عرصہ کے مقابلے میں محض2.77فیصد 13کروڑ 20لاکھ ڈالرز کی کمی ہوئی۔ نومبر 2017میں برآمدات کا حجم 1968ملین ڈالرز تھا جو نومبر 2018میں گھٹ کر 1843ملین ڈالرز رہ گیا۔ اقتصادی ماہرین جنہوں نے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کیلئے حکومتی اقدامات کی حمایت کی تھی۔ اب انہیں حکومتی کارکردگی پر تشویش ہے۔ ان کی رائے میں مالیاتی بحران مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ گو کہ چند ماہ میں برآمدات بڑھانا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم درآمدات میں دو فیصد اور برآمدات 6فیصد کمی کو اچھی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ترجمان سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ 5ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 12فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اب انہیں حکومتی کارکردگی پر تشویش ہے۔ ان کی رائے میں مالیاتی بحران مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ گو کہ چند ماہ میں برآمدات بڑھانا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم درآمدات میں دو فیصد اور برآمدات 6فیصد کمی کو اچھی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ترجمان سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ 5ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 12فیصد اضافہ ہوا ہے۔تاہم گزشتہ ماہ اکتوبر 2018کے مقابلے میں ترسیلات زر میں 40کروڑ ڈالرز کی کمی واقع ہوئی۔ البتہ روپے کی قدر میں کمی سے ترسیلات زر پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…