جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

غیر ملکیوں کے اہلخانہ کے اقاموں کی تجدید 2020تک 400ریال تک ہو جائیگی ، سعودی ذرائع

datetime 3  جنوری‬‮  2018 |

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کے اہلخانہ پر عائد کی گئی فیس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو اپنے اہلخانہ کے ہر فرد کے لئے فیس کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ یہ فیس سالانہ بنیادوں پر ایڈوانس ادا کرنا ہوگی۔ عرب نیوز کے مطابق پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ

کا کہنا ہے کہ غیر ملکی اپنے اہلخانہ کی فیس SADAD پیمنٹ سسٹم کے ذریعے ادا کریں گے، جو کہ سعودی مالیاتی ایجنسی کی جانب سے قائم کی گئی نیشنل الیکٹرانک پیمنٹ سروس ہے۔ غیر ملکیوں کو جن افراد خانہ کے لئے فیس ادا کرنی ہوگی ان میں اہلیہ، 18 سال سے کم عمر بیٹے، اور تمام بیٹیاں شامل ہیں۔ اسی طرح والدین، اور وہ گھریلو ملازمین جنہیں غیر ملکی شہری نے سپانسر کیا ہو ، کی فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔ اس فیس کی ادائیگی

ایڈوانسڈ سالانہ بنیاد پر اقامے کی تجدید یا نئے اقامے کے اجراء، ایگزٹ ری انٹری ویزے کے اجراء یا فائنل ایگزٹ ویزے کے ہمراہ کی جائے گی۔ فیس کا نفاذ یکم جولائی 2017ء سے 100 ریال فی کس سالانہ کے حساب سے ہوچکا ہے۔ یکم جولائی 2018ء سے یہ فیس 200 ریال فی کس سالانہ، یکم جولائی 2019ء سے 300 ریال فی کس سالانہ، اور 2020ء میں 400 ریال فی کس سالانہ ہو جائے گی۔ اس فیس کا اطلاق ہر غیر ملکی پر ہوگا، چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو، اور ادا کردہ فیس ناقابل واپسی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…