جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

تارکین وطن پاکستانی اب اپنے قومی شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے بیرون ملک سے رقوم کی لین دین کرسکیں گے،نئی سروس متعارف

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے عالمی سطح پر رقوم کی ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے والی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ’ماسٹر کارڈ‘ کے ساتھ اپنے معاہدے کو دوبارہ بحال کرنے کی تیاری کر لی جس کے تحت کوئی بھی پاکستانی شہری اپنے 13 ہندسوں پر مشتمل قومی شناختی نمبر کے ذریعے بیرونِ ملک سے رقوم کی لین دین کر سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق معاملے پر سابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سیکیورٹی وجوہات پر جنوری میں ہونے والی مفاہمت کی یاد داشت (ایم او یو) کو منسوخ کر دیا تھا۔نجی ٹی وی کے مطابق نادرا حکام نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ نادرا اور ماسٹر کارڈ کے درمیان معاہدے کی تجویز شدہ اسکیم کے تحت انٹرنیٹ کے ذریعے ادائیگی کرنے کیلئے ڈیٹا بیس پر ایک آئیکن نمودار ہوگا جو بیرونِ ملک ماسٹر کارڈ ہولڈرز کو یہ سہولت فراہم کرے گا کہ وہ اپنا کارڈ نمبر، پاکستان بھیجی جانے والی رقم اور وصول کنندہ کا قومی شناختی کارڈ نمبر کا اندراج کرکے رقم بھیج سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وصول کنندہ ملک بھر میں موجود 9 ہزار ای ٗسہولت سینٹرز سے اپنی بائیومیٹرک تصدیق کے بعد رقم موصول کر سکتے ہیں تاہم صرف قومی شناختی کارڈ ظاہر کرنے پر نادرا کی سیکیورٹی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے سوال کیا کہ جب بھی آپ وزیر اعظم ہاؤس یا پھر کسی بھی اہم سرکاری عمارت کا دورہ کرتے ہیں تو آپ کو اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر دکھانا پڑتا ہے، کیا اس سے نادرا کے ڈیٹا بیس کی سیکیورٹی پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ نئی سروس لانچ ہونے سے بیرون ملک سے ترسیلات زر بھیجنے اور وصول کرنے والوں کو بہت زیادہ آسانی ہوجائیگی اور یہ پاکستانیوں کے لیے بہت فائدہ مند ہوگا کیوں کہ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں ترسیلات زر کا حجم بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی وضاحت وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو مطمئن کریگی جو خود بھی عوام کو سہولتیں فراہم کرنے والی سوچ کے حامی ہیں۔نادرا حکام نے بتایا کہ اگر ادارہ وزیرِ داخلہ کے خدشات کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا تو یہ سہولت آئندہ 6 ماہ کے اندر متعارف کرادی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ سہولت کا استعمال کرتے ہوئے شہری اپنے قومی شناختی کارڈ کے ذریعے ملکی اور بیرونِ ملک ترسیلات کی لین دین کر سکتے ہیں اور انہیں کسی بھی طرح سے بینک اور کرنسی ایکسچینجر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…