جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت ناکام ، استعمال کی انتہائی ضروری اشیاء کی قیمتوں کو گیئر لگ گیا،عوام کے ہوش ہی اُڑ گئے

datetime 24  ستمبر‬‮  2017 |

کوئٹہ (این این آئی ) کوئٹہ شہر میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی اتوار بازارمیں بھی گلے سڑے ٹماٹر 110روپے کلو اور اچھاٹماٹر 200روپے کلو فروخت ہورہا ہے خواتین نے ٹماٹر کے بجائے کھانوں میں دہی استعمال کررہی ہے تفصیلات کے مطابق عیدالاضحی گزرنے کے باوجود ٹماٹر اور پیاز کی قیمیتوں میں کوئی کمی نہیں آئے عید کو گزرہوئے دو ہفتے گزر چکے ہیں مگر قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے

اتوا رکے روز بینظیر پل کے قریب لگائے گئے اتوار بازار میں بھی ٹماٹروں کی قیمت آسمان سے باتیں کررہے تھے اچھا ٹماٹر بقول تاجروں کے یہ ٹماٹر ایران سے آتا ہے اس لئے 200روپے کلو ہے اور یہاں کا ٹماٹر 110روپے کلو ہے جو زیادہ اچھا نہیں اور لوگ خریدتے بھی نہیں ٹماٹر جیسی سبزی نے خاص طورپر خواتین کو پریشان کردیا گیا ہے کیونکہ کھانوں میں زیادہ تر ٹماٹر استعمال کئے جاتا ہے اب خواتین نے اس کا نیم بدل تلاش کیا ہے دہی تاکہ مہنگائی کے دور میں 200روپے کا ٹماٹر خریدنے کے بجائے 90روپے کا ایک کلو دہی خریدا جائے تاکہ ایک کلو دہی کھانوں میں بھی استعمال ہوسکتا ہے اور اسکی لسی بھی بنائی جاسکتی اور روٹی کے ساتھ بھی کھایا جاسکتا ہے ۔دریں اثناء پشاور میں سبزیوں کی قیمتوں پرقابونہ پایاجاسکا، ٹماٹر کی قیمتیں سن کر شہریوں کے چہرے لال پیلے ہونے لگے ۔ ٹماٹر فی کلو ایک سو چالیس سے ایک سو ساٹھ روپے اور پیاز سو روپے پر فروخت ہورہے ہیں۔ پشاور میں سزی کی قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا جا سکا ۔ مارکیٹ میں ٹماٹر فی کلو ایک سو چالیس سے ایک سو ساٹھ جبکہ پیاز اسی سے سو روپے تک بکنے لگا۔ گوبھی اورکریلافی کلو90روپے، لیموں اور ہری مرچ 200 روپے پر فروخت ہونے لگا۔۔ آلو سفید چالیس، آلو سرخ ساٹھ روپے فی کلو جبکہ لہسن سو روپے پاو پر فروخت کیا جارہاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…