منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

پاکستان اور امریکہ میں عدالتی جنگ شروع،63 کروڑ ڈالر کا جرمانہ مسترد،جوابی اقدامات کا اعلان کردیاگیا

datetime 28  اگست‬‮  2017 |

نیویارک (این این آئی) نجی بینک حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) نے امریکی حکام کی جانب سے بھاری جرمانے کے باعث نیویارک میں اپنی برانچ بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو حبیب بینک کی جانب سے لکھے گئے خط کے مطابق بینک نے امریکی شہر نیویارک میں اپنا آپریشن بند کرنے کا فیصلہ امریکی مالیاتی

نگراں ادارے کی جانب سے تقریباً 63 کروڑ ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد کیا۔خط کے مطابق نیو یارک کے ڈیپارٹمنٹ آف فنانشل سروسز (ڈی ایف ایس) کی جانب سے 62 کروڑ 96 لاکھ 25 ہزار ڈالر کے قانونی نوٹس پر امریکی عدالت سے رجوع کیا جائیگا۔امریکی حکام نے دسمبر 2015 میں حبیب بینک کی نیویارک برانچ کے خلاف رِسک مینجمنٹ میں کمی اور اینٹی منی لانڈرنگ کمپلائنس پروگرام کی وجہ سے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔حبیب بینک کے مذکورہ خط میں بتایا گیا کہ بینک کے مخلص اور وسیع پیمانے پر اصلاحاتی اقدامات کے باوجود بھی نیویارک کے ڈی ایف ایس نے بینک کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔خط میں کہا گیا کہ بینک بھرپور طریقے سے امریکی عدالت میں قانونی کارروائی کا مقابلہ کرے گا۔امریکی فیڈرل ریزرو نے ایچ بی ایل کو ڈالر سے متعلقہ کسی بھی طرح کی لین دین کو کلیئر قرار دینے سے روک دیا تھا جبکہ ڈالر سے متعلقہ اکاؤنٹس کھولنے پر بھی پابندی عائد کردی تھی تاہم حبیب بینک نے وضاحت کی تھی کہ بینک اپنے امریکی لائسنس کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…