پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

نئی گاڑیوں کی بلیک مارکیٹنگ، عوام کو اربوں کا ٹیکہ

datetime 20  مارچ‬‮  2017 |

سلام آباد (مانیـٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں گاڑیوں کی بلیک مارکیٹنگ بھی عروج پر پہنچ گئی ہے۔مقبول ماڈلز پر اوسطاً ڈیڑھ لاکھ سے2 لاکھ روپے بلیک منی وصول جبکہ نئے متعارف کرائے گئے ماڈلز پر تین لاکھ روپے تک کی بلیک منی وصول کی جانے لگی۔ ایچ ایم شہزاد کا انکشاف۔تفصیلات کے مطابق آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے انکشاف کرتے

ہوئے بتایا ہے کہ نئی گاڑیوں کی مارکیٹ میں قوانین کی کھلم کھلا دھجیاں بکھیری جارہی ہیں اور وفاقی وزارت صنعت و پیداوار اور مسابقتی کمیشن آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہیں۔ دوسری جانب قومی آٹو پالیسی کے ذریعے صارفین کو گاڑیوں کی بروقت فراہمی اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے آٹو پالیسی بھی غیرموثر ہوکر رہ گئی ہے۔ایچ ایم شہزاد نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 70فیصد نئی گاڑیاں بلیک مارکیٹنگ مافیا کے ذریعے فروخت کی جارہی ہیں۔ گاڑیوں کے مقبول ماڈلز پر اوسطاً ڈیڑھ لاکھ سے2 لاکھ روپے بلیک منی وصول کی جارہی حال ہی میں متعارف کرائے گئے ماڈلز پر تین لاکھ روپے تک کی بلیک منی وصول کی جارہی ہے۔ بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے نئی گاڑیاں عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ ملک میں نئی گاڑیوں کی بلیک مارکیٹنگ متوازی ڈیلر شپ کے زریعے کی جارہی ہے جو فرضی ناموںاور کوائف کے ذریعے سرمایہ کاروں کا پیسہ نئی گاڑیوں میں انویسٹ کرواتے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کے بعد نئی گاڑیوں کی خریداری میں انویسٹمنٹ سب سے پرکشش اور منافع بخش ذریعہ بن چکا ہے اور بہتری گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے صارفین کا استحصال کرنے والے ڈیلرز بھی کروڑ پتی بن چکے ہیں۔ایچ ایم شہزاد نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے

کہ گاڑیوں کی بلیک مارکیٹنگ کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے اور گاڑیوں کی بلیک مارکیٹنگ کے اس مذموم دھندے میں ملوث افراد ے خلاف تحقیقات کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ایڈیشنل ٹیکس کی تجویز بھی بلیک مارکیٹنگ کو قانونی حیثیت دلوانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نئے انویسٹرز کو راغب کرنے کے لیے پالیسی میں دی جانے والی مراعات کی وجہ سے بہت سے نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں آرہے ہیں لیکن بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے نئے سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…