اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پی آ ئی اے کے طیارے کی غیر قانونی طور پر جرمن کمپنی کو فروخت ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 15  فروری‬‮  2017 |

اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) چیئرمین سینیٹ میا ں رضا ربانی نے پی آ ئی اے طیارے کی غیر قانونی طور پر جرمن کمپنی کو فروخت اور مبینہ طور پر کرپشن حوالے سے شکایا ت کو نو ٹس لیتے ہوئے معاملہ سینیٹ کی پی آ ئی اے کی کا رکردگی کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کو ریفر کردیا اور تیس دن میں تحقیق کرکے رپور ٹ پیش کر نے کی ہدایت کر دی جبکہ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا

کہ پی آ ئی اے کی جرمن کمپنی کو غیرقانونی طور پر فروخت کے حوالے سے سنجیدہ الزامات ہیں،92 ماڈل کے چار جہاز ہیں جن کو 1992 میں پی آئی اے میں شامل کیا گیا ۔ پرانے ہو گئے تھے اس لئے چاروں جہازوں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ٹینڈرز کھولنے کی بڈز تک کسی نے جہاز خریدنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ 31 جولائی 2016 کو اشتہار دیا گیا لیکن 3 اگست تک کوئی خریدنے کے لئے نہیں آیا ۔ اس پر انکوائری کنڈکٹ کی گئی ہے 7 دن میں رپورٹ آئے گی ۔ ایک سنجیدہ الزام ہے اور معاملہ پر انکوائری رپورٹ کے لئے 30 دن کا وقت دیا تھا اور 7 دن میں رپورٹ آئے گی ۔ رپور ٹ ایوان میں جمع کی جا ئے گی اور اس پر ضروری ایکشن لیا جا ئے گا ۔منگل کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پی آ ئی کے طیارے کی خلاف قا نون فرو خت کے حوالے سے توجہ دلا و نوٹس پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کا طیارہ اے 310 پیرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جرمن کمپنی کو بیچا گیا اور یہ ٹینڈر اوپن ہونے سے قبل ہی فروخت کیا گیا ۔ خبرآئی کہ3 کروڑ 50 لاکھ میں فروخت کیا گیا ۔ اور طریقہ کار کے بغیر فروخت کیا گیا۔ یہ پی آئی اے کا اثاثہ تھا اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بیچا گیا ۔ پی آئی اے کے پائلٹ ہاؤس میں آکر تفصیل فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ کوئی احتسابی سسٹم نہیں ہے ۔انہوں نے از راہ تفنن کہا کہ اتنا سستا بیچنا تھا تو ہم سینیٹ کے لئے ہی خرید لیتے ۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ تحقیق کے لئے پی آئی اے کی کارکردگی پر سپیشل کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے سپرد کیا جائے اس میں گڑ بڑ ہے ۔ اس پر سخت ایکشن ہونا چاہیے ۔

سینیٹر مظفر حسین نے کہا کہ سول ایوی ایشن کے حکام نے دس دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ سینیٹر سلیم ماؤنڈری والا کی نیت درست نہیں ہے ان کو اس لئے کہہ رہے ہیں کہ سینیٹ کے لئے لے لیں ۔ جن کے ساتھ ان کی بنتی نہیں ان کو کیا اس میں بیٹھانا چاہیے ۔ اس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پی آئی اے کی اسپیشل کمیٹی کے چیئرمین کی تجویز پر ذیلی کمیٹی جس کے کنونیئر سینیٹر مظفر حسین شاہ ہیں ریفر کیا جاتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…