اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

بڑی پابندی کے خاتمے کے بعدپاکستانی سرمایہ کاروں نے متحدہ عرب امارات سے امیدیں باندھ لیں

datetime 15  فروری‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے متحدہ عرب امارات کی طرف سے پولٹری اور اسکی مصنوعات کی درآمد پر 8سال سے عائد پابندی ہٹانے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق پاکستان سے سالانہ 700ملین ڈالر سے زائد کی پولٹری اور اس کی مصنوعات درآمد ہو سکیں گی ۔ ایسوسی ایشن کے نادرن زون کے سیکرٹری میجر (ر) سید جاوید حسین بخاری نے اس حوالے سے

بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہیں پولٹری فارمز، فیڈ سمیت اس سے متعلقہ دیگر پلانٹس کا نہ صرف دورہ کرایا گیا بلکہ تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی جبکہ پابندی کے خاتمے کے لئے حکومت کی طرف سے سفارتی سطح پر بھی بیحد کاوشیں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے متحدہ عرب امارات کو گوشت ، انڈوں، ہیچری ایگز یا چوزوں اور پولٹری کی دیگر مصنوعات کا حجم ابتدائی تخمینے کے مطابق 700ملین ڈالر سے زائد ہو گا جبکہ پاکستان کی پولٹری کی صنعت اس سے دو گنا درآمد کی استعداد بھی رکھتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پولٹری کی صنعت میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے اور اس سے لاکھوں افراد کو روزگار بھی میسر آرہا ہے ۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد پولٹری کی صنعت کو مزید ترقی ملنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں جس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ پابندی کے خاتمے کے لئے حکومت کی طرف سے سفارتی سطح پر بھی بیحد کاوشیں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے متحدہ عرب امارات کو گوشت ، انڈوں، ہیچری ایگز یا چوزوں اور پولٹری کی دیگر مصنوعات کا حجم ابتدائی تخمینے کے مطابق 700ملین ڈالر سے زائد ہو گا جبکہ پاکستان کی پولٹری کی صنعت اس سے دو گنا درآمد کی استعداد بھی رکھتی ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…