کراچی(نیوز ڈیسک)چین پاکستان کا سب سے اہم ترین شراکت دار ہے جہاں 2014-15 میں تجارتی حجم 12.299 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا۔ چند سالوں میں تجارت کا حجم بڑھ کر 12 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات 2014-15 میں ساڑھے تین گنا سے زائد اضافے کے ساتھ 2.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔پاکستان بزنس کونسل نے 100 چینی سرمایہ کاروں کے وفد کی میزبانی کی۔ اس سیشن میں کراچی میں اعلیٰ معیار اوربہترین کاروبار کے حوالے سے بی ٹو بی گفتگو بھی کی گئی جہاں چینی وفد کو ملک کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور امکانات پر بریفنگ دی گئی۔چینی وفد کے سربراہ اور سفیر ہونے کے ساتھ ساتھ اس سیشن کے مہمان خصوصی شا زوخانگ نے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستانی معیشت کی بہتری اور مدد کیلئے چینی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں دلچسپی اور ان کے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کیلئے کی جانے والی انتھک کوششوں کو بھی سراہا۔سندھ کے ایڈیشنل سیکریٹری برائے ترقی اور منصوبہ بندی اعجاز علی خان، توانائی کے سیکریٹری واصف عباس، سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل افتخار علی شلواری، کامرس انڈسٹریز اور انویسٹمنٹ کے سیکریٹری اور تھر کول پروجیکٹ پر پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندوں نے چینی وفد اور شرکا کو مختصر بریفنگ دی۔ ان تمام تقاریر میں وفد کو مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع اور اس کی صلاحیت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین بشیر علی محمد نے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کا اتحاد ہمیشہ سے ہی ہماری قوت رہا ہے، یہ تعلق صنعت، معیشت، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرے گا۔مجھے امید ہے کہ ہم ناصرف اس تعلق کو برقرار رکھیں گے بلکہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ محض سڑک کی تعمیر، ریلوے کا نظام یا توانائی کے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ہزارہا کاروباری منصوبوں اور سماجی سرگرمیوں تک پھیلا ہواہے جو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور مجموعی ملکی پیداوار کی شرح کو اعلیٰ سطح تک لے جانے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔ اس کے ناصرف پاک چین تجارت بلکہ پورے وسطی ایشیائی خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔پاک چین اقتصادی راہداری کے معاہدے کی یادداشت پر دستخط جولائی 2013 میں ہوئے تھے جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں تازہ پیش رفت ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ اس انتہائی بڑے پروجیکٹ سے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کے لیے مفید ہوگا جس نے تجارت اور سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع کے پیش نظر پاکستان اور چین کے بہت سارے کاروباروں کی دلچسپی حاصل کرلی ہے، اس پیش رفت کے اثرات کے طور پر پاک چین دوستی ایسوسی ایشن (سی پی ایف اے) نے منصوبہ بنایا ہے کہ چین کے نجی سیکٹر سے منسلک معروف کاروباری شخصیات، کاروباری منتظمین اور سرمایہ کاروں کے 100رکنی وفد کو لائیں گے جس کا مقصد ان کو توانائی، بنیادی ڈھانچے، ٹیکسٹائل، زراعت، انجینئرنگ، ٹیلی کمیونیکیشن اور کان کنی کے میدان میں تجارت اور سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہے۔
پاک چین دوستی کانفرنس؛ دونوں ممالک کے تاجروں کا تجارت بڑھانے کا عزم
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ہنی ٹریپ کرنیوالی ٹک ٹاکر گرفتار
-
پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی
-
پاکستان، ترکیہ کے ساتھ ‘کاغذی معاہدہ’ سعودیہ کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا، ایران
-
مارکیٹ سےاکٹھےکیے گئے گھی کے تقریباً 48 فیصدنمونے کوالٹی ٹیسٹ میں ناکام
-
100 سے 40 ہزار روپے تک کے پرائز بانڈز، انعامی رقم پر ٹیکس کتنا ہوگا؟
-
پنجاب، کے پی، بلوچستان، آزاد کشمیر، جی بی میں بارشوں اور سیلاب کا الرٹ



















































