پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

پاک چین دوستی کانفرنس؛ دونوں ممالک کے تاجروں کا تجارت بڑھانے کا عزم

datetime 25  جنوری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)چین پاکستان کا سب سے اہم ترین شراکت دار ہے جہاں 2014-15 میں تجارتی حجم 12.299 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا۔ چند سالوں میں تجارت کا حجم بڑھ کر 12 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات 2014-15 میں ساڑھے تین گنا سے زائد اضافے کے ساتھ 2.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔پاکستان بزنس کونسل نے 100 چینی سرمایہ کاروں کے وفد کی میزبانی کی۔ اس سیشن میں کراچی میں اعلیٰ معیار اوربہترین کاروبار کے حوالے سے بی ٹو بی گفتگو بھی کی گئی جہاں چینی وفد کو ملک کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور امکانات پر بریفنگ دی گئی۔چینی وفد کے سربراہ اور سفیر ہونے کے ساتھ ساتھ اس سیشن کے مہمان خصوصی شا زوخانگ نے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستانی معیشت کی بہتری اور مدد کیلئے چینی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں دلچسپی اور ان کے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کیلئے کی جانے والی انتھک کوششوں کو بھی سراہا۔سندھ کے ایڈیشنل سیکریٹری برائے ترقی اور منصوبہ بندی اعجاز علی خان، توانائی کے سیکریٹری واصف عباس، سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل افتخار علی شلواری، کامرس انڈسٹریز اور انویسٹمنٹ کے سیکریٹری اور تھر کول پروجیکٹ پر پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندوں نے چینی وفد اور شرکا کو مختصر بریفنگ دی۔ ان تمام تقاریر میں وفد کو مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع اور اس کی صلاحیت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین بشیر علی محمد نے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کا اتحاد ہمیشہ سے ہی ہماری قوت رہا ہے، یہ تعلق صنعت، معیشت، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرے گا۔مجھے امید ہے کہ ہم ناصرف اس تعلق کو برقرار رکھیں گے بلکہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ محض سڑک کی تعمیر، ریلوے کا نظام یا توانائی کے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ہزارہا کاروباری منصوبوں اور سماجی سرگرمیوں تک پھیلا ہواہے جو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور مجموعی ملکی پیداوار کی شرح کو اعلیٰ سطح تک لے جانے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔ اس کے ناصرف پاک چین تجارت بلکہ پورے وسطی ایشیائی خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔پاک چین اقتصادی راہداری کے معاہدے کی یادداشت پر دستخط جولائی 2013 میں ہوئے تھے جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں تازہ پیش رفت ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ اس انتہائی بڑے پروجیکٹ سے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کے لیے مفید ہوگا جس نے تجارت اور سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع کے پیش نظر پاکستان اور چین کے بہت سارے کاروباروں کی دلچسپی حاصل کرلی ہے، اس پیش رفت کے اثرات کے طور پر پاک چین دوستی ایسوسی ایشن (سی پی ایف اے) نے منصوبہ بنایا ہے کہ چین کے نجی سیکٹر سے منسلک معروف کاروباری شخصیات، کاروباری منتظمین اور سرمایہ کاروں کے 100رکنی وفد کو لائیں گے جس کا مقصد ان کو توانائی، بنیادی ڈھانچے، ٹیکسٹائل، زراعت، انجینئرنگ، ٹیلی کمیونیکیشن اور کان کنی کے میدان میں تجارت اور سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…