زرعی انکم ٹیکس پر توجہ دی جائے، چیئرمین ایف بی آر

  جمعرات‬‮ 9 اپریل‬‮ 2015  |  13:55

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے کہاکہ ہمیں ٹیکس کلیکشن ایجنسی کی ضرورت ہے جو وفاق اور صوبوں میں ٹیکس جمع کرے، ٹیکسوں میں مزید رعایت نہیں دی جانی چاہیے اور ایس آر او کا اجرا نہیں ہونا چاہیے۔بدھ کو پائیڈ کے زیراہتمام پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ معیشت کو درپیش چیلنجز سے ہم آگاہ ہیں، معاشی نمو کے بغیر وصولیوں میں اضافہ نہیں ہو سکتا، جب تک معیشت ترقی نہیں کرے گی ٹیکس وصولیوں کو کیسے بڑھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس جمع کرانے والوں کا سوال


ہوتا ہے کہ ہم ٹیکس کیوں جمع کرائیں جو ایک بہت بڑا چیلنج ہے، رعایت دینے والے ایس آر اوز غلط ہیں، مستقبل میں اس پریکٹس کو بند کرنا ہوگا، ایف بی آر نے ایک شخص کو بھی رعایت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیاہے کہ کون ٹیکس دے رہاہے اور کون نہیں دے رہا، اس میں میڈیا کا کردار بھی مثبت ہے، جب سوال ہونا شروع ہو جائیں تو بہتری آتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس پر قومی اتفاق رائے ہو چکاہے کہ ٹیکسوں میں مزید رعایت نہیں دی جانی چاہیے اور ایس آر او کا اجرا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ایسی ٹیکس کلیکشن اجنسی کی ضرورت ہے جو وفاق اور صوبوں میں ٹیکس جمع کرے، ٹیکس وصولیاں ریاست کا کام ہے، یہ اس پر منحصر ہے کہ کیسے ٹیکس جمع کرنے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں زرعی انکم ٹیکس پر فوکس کرنا چاہیے اور ایکویٹی سب کو ادا کرنی چاہیے۔ اس موقع پر چیئرمین ٹیکس اصلاحات کمیشن سعود نقوی نے کہا کہ پاکستان ٹیکس وصولیوں میں مشکلات کے حوالے سے 172ویں نمبر پر ہے، جب ایف بی آر کا نام آتا ہے تو تاثر لیا جاتاہے کہ ایک کرپٹ ادارہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ایس آر او کلچر رکھتے ہیں جس سے بہت سی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، اگر پوچھا جائے کہ ملک میں کیا مسئلہ ہے تو مسئلہ صرف عملدرآمد کا ہے، ملک میں بہت سے قانون ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم صرف 39 فیصد عملدرآمد کر رہے ہیں، مارکیٹ میں ڈیٹا موجو د ہے مگر وہ کام کا نہیں ہے، تحقیق نہیں کی گئی، کوئی اور ملک ایس نہیں ملتا جس میں ٹیکس اصلاحات کے لیے اتنی جدوجہد کی گئی ہو جتنی پاکستان میں کی گئی ہے، عوام کو احتساب کے قابل بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر واحد ادارہ ہے جو ٹیکس وصولیاں کرتا ہے،اس کو پالیسی بورڈ کا درجہ دیا جانا چاہیے اور یہ خودمختار ہونا چاہیے اور اس کے چیئرمین کی تقرری اخبار میں اشتہارکے ذریعے کی جانی چاہیے۔


زیرو پوائنٹ

6درخواستیں

اتاترک جدید ترکی کے بانی ہیں‘ ان کا شمار دنیا کے دس بڑے لیڈروں میں ہوتا تھا‘ والد ایک چھوٹے سے سوداگر تھے لیکن اتاترک فوج میں بھرتی ہو گئے‘ مصطفی کمال پاشا میں دو ایسی خوبیاں تھیں جو اللہ تعالیٰ بہت کم لوگوں کو نصیب کرتا ہے‘ یہ بے انتہا بہادر انسان اور دوسرا اللہ تعالیٰ نے انہیں انتہائی ....مزید پڑھئے‎

اتاترک جدید ترکی کے بانی ہیں‘ ان کا شمار دنیا کے دس بڑے لیڈروں میں ہوتا تھا‘ والد ایک چھوٹے سے سوداگر تھے لیکن اتاترک فوج میں بھرتی ہو گئے‘ مصطفی کمال پاشا میں دو ایسی خوبیاں تھیں جو اللہ تعالیٰ بہت کم لوگوں کو نصیب کرتا ہے‘ یہ بے انتہا بہادر انسان اور دوسرا اللہ تعالیٰ نے انہیں انتہائی ....مزید پڑھئے‎