اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

گوادر کیلئے ایران سے بجلی کی درآمد دونوں ممالک میں ٹیرف کا معاہدہ طے

datetime 21  مارچ‬‮  2023 |

لاہور( این این آئی)ایران سے گوادر اور گوادر پورٹ کو 100 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے بعد حکومت پاکستان اور حکومت ایران کے درمیان ٹیرف کا معاہدہ طے پا گیا ہے، دونوں حکومتوں کے درمیان 8.4 روپے سے 12.4 روپے فی یونٹ ٹیرف پر اتفاق ہوا ہے ۔

ابتدائی طور پر 9.9 سے 15.3 سینٹس فی یونٹ کے درمیان ٹیرف کی حد طے کرنے اور اسے نئی پولن-گبد بجلی ٹرانسمیشن لائن اور موجودہ جکیگور-منڈ انٹر کنکشن لائن دونوں پر فوری طور پر لاگو کرنے پر بات چیت ہوئی تھی اور ٹیرف کے معاہدے کی میعاد 31 دسمبر 2024) کو ختم ہو گی۔دونوں فریقین قیمتوں کے تعین کے ایک نئے فارمولے پر متفق ہونے میں کامیاب ہو گئے جس کے مطابق ایرانی فریق نے دسمبر 2024 تک موجودہ جاکیگور-مند انٹر کنکشن لائن کے ٹیرف میں کوئی تبدیلی نہ کرنے پر اتفاق کیا اور پولان-گبد بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کے نئے ٹیرف کو 8.4 سے 12.4 سینٹس فی یونٹ تک لانے پر اتفاق کیاگیا ہے ۔تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ٹیرف کا تصفیہ ایک مثبت پیشرفت ہے جو220کے وی پولن گبد۔ٹرانسمیشن لائن کو ممکن بنائے گی۔مزید برآں لائن کے ذریعے خطے کو فراہم کی جانے والی اضافی 100 میگاواٹ بجلی اگلے 5سے10سالوںں کے لیے گوادر کے بجلی کے مسائل کو حل کرنے کا سبب بنے گی جس سے گوادر بندرگاہ، صنعتوںاور شہر کو ترقی ملے گی۔اس وقت پاکستان بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں 104 میگاواٹ بجلی درآمد کر رہا ہے اور ایران سے 100 میگاواٹ کے اضافے سے بجلی کی کل درآمد 204 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ایران نے پاکستان کے ساتھ سابقہ مفاہمت پر پیشرفت کا بھی کہا ہے جس کے مطابق ایران پاکستان کو 5000 میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…