بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

طلاق کے بعد 90 دن کے اندر ازدواجی تعلقات پر زیادتی کا مقدمہ خارج

datetime 13  دسمبر‬‮  2025 |

لاہور (این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے طلاق دینے کے تین دن بعد ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے معاملے پر شوہر کے خلاف درج زیادتی کا مقدمہ خارج کر دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت طلاق 90دن مکمل ہونے سے قبل قانونی طور پر موثر نہیں ہوتی اس لیے اس مدت کے دوران ازدواجی تعلقات کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ نے شہری جمیل احمد کی درخواست پر 12صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں دیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ طلاق کے بعد 90روز کے اندر شوہر کو طلاق منسوخ کرنے (رجوع)کا حق حاصل ہوتا ہے اور اس مدت میں نکاح برقرار تصور کیا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 22اپریل 2024ء کو ہوئی بعد ازاں خاتون کو معلوم ہوا کہ شوہر پہلے سے شادی شدہ ہے جس پر تنازع پیدا ہوا، شوہر نے 14اکتوبر 2024ء کو طلاق دی جبکہ خاتون کے مطابق 17اکتوبر کو سابق شوہر نے گن پوائنٹ پر زبردستی زیادتی کی، خاتون نے رحیم یار خان میں زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا۔درخواست گزار شوہر نے موقف اختیار کیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت 90دن سے قبل طلاق موثر نہیں ہوتی اور اس نے مقررہ مدت کے اندر چیئرمین یونین کونسل کے روبرو رجوع بھی کر لیا تھا لہٰذا قانونی طور پر خاتون اس کی بیوی تھی۔عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ان حقائق سے خاتون نے بھی انکار نہیں کیا اس لیے قانون کی نظر میں فریقین کی شادی برقرار رہی۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں واضح کیا کہ اسلامی قانون کے تحت شادی کے خاتمے کے مختلف طریقے ہیں تاہم مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے مطابق طلاق 90دن مکمل ہونے سے پہلے قانونی حیثیت اختیار نہیں کرتی۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ قانون گناہ اور جرم میں فرق کرتا ہے، موجودہ کیس میں اگرچہ درخواست گزار کے طرزِ عمل کو غیر اخلاقی قرار دیا جا سکتا ہے تاہم اس بنیاد پر زیادتی کی دفعات لاگو نہیں ہوتیں۔لاہور ہائی کورٹ نے نتیجتاً درخواست گزار کے خلاف درج زیادتی کا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے دیا اور اس معاملے میں ایک نیا قانونی نکتہ طے کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…