ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں بھی سپر فلو کہلائے جانے والے انفلوئنزا کی موجودگی کا انکشاف

datetime 13  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے سپر فلو وائرس کی پاکستان میں بھی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔عالمی ادارہ صحت (بلیو ایچ او) کے مطابق فلو کی نئی قسم A(H3N2) کے ذیلی گروپ سب کلاڈ K کے باعث برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک میں انفلوئنزا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔برطانوی محکمہ صحت کے مطابق ہسپتالوں میں روزانہ اوسطاً 2600سے زائد مریض داخل ہو رہے ہیں، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔برطانوی وزیر صحت کے مطابق موجودہ صورتحال کوویڈ کے بعد اسپتالوں پر سب سے بڑا دبا ہے، ڈبلیو ایچ او کے مطابق نئی قسم زیادہ خطرناک نہیں تاہم اس کا پھیلا معمول سے پہلے شروع ہو گیا ہے۔

سپر فلو سے بچوں اور بزرگوں میں متاثرین کی شرح سب سے زیادہ ہے جبکہ کچھ اسکول عارضی طور پر بند جب کہ کچھ میں اوقات کم کیاگیا ہے۔پاکستان میں بھی سپر فلو انفلوائنز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے اور اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ 20 فیصد نمونوں میں وائرس کی نئی قسم A(H3N2) کے ذیلی گروپ سب کلاڈ K کی موجودگی پائی گئی۔اس حوالے سے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طبی ماہر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے بتایا کہ سپر فلو وائرس کی علامات بھی دیگر انفلوئنزا کی طرح ہی ہوتی ہیں یعنی سر میں درد، نزلہ، بخار جیسی علامات ہوتی ہیں۔ڈاکٹر رانا جواد نے بتایا کہ اس وائرس کو سپر فلو اس کے لیے کہہ رہے ہیں کہ پوری دنیا میں جو متوقع تعداد ہوتی ہے اس سے زیادہ تعداد میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ وائرس میں بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس سے بچا کے طریقے بھی وہی ہیں جو بچا کے طریقے ہوتے ہیں، بچوں اور بڑی عمر کے افراد کو احتیاطی ویکسین لگوائی جائیں، کئی مغربی ممالک میں فلو کی ویکسین بچوں اور بڑی عمر کے افراد کے ساتھ نوجوانوں کو بھی لگائی جاتی ہیں، جن افراد کو اس قسم کی علامات ہیں تو کوشش کریں کہ وہ بچہ اسکول نہ جائے یا وہ افراد دفتر نہ جائیں تاکہ دیگر افراد محفوظ رہ سکیں، اگر کسی کو فلو ہے تو اس سے ہاتھ ملانے سے اجتنات کیا جائے اور ملاقات کم کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…