بدھ‬‮ ، 06 مئی‬‮‬‮ 2026 

انسانوں کو بجلی کی رفتار سے دوردراز سیاروں تک بھیجنا ممکن ہے

datetime 10  ستمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) جاپانی نڑاد امریکی ماہرِ طبعیات میشیو کاکو نے کہا ہے کہ اسٹارٹریک فلموں کی طرح انسانوں کو توانائی میں بدل کر ایک سیارے سے دوسرے سیارے بھیجنا ممکن ہے اور اگلے چند عشروں میں یہ عمل ممکن ہوجائے گا۔میشیو کاکو کے مطابق ”ٹیلی پورٹیشن“ کا یہ عمل اس صدی کے آخرتک قابلِ عمل ہوجائے گا اور پلک جھپکتے ہی انسانوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جاسکے گا۔میشیو کا کہنا ہے کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے ذریعے اب ایٹمی ذرات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا گیا اور بہت جلد مادے کی مزید پیچیدہ قسم ایک سالمہ ( مالیکیول) کو ٹیلی پورٹ کرنا ممکن ہوگا اور اس دوران اصل معلومات بھی ضائع نہیں ہوگی۔
میشیو کاکو کے مطابق پہلا مالیکیول ٹیلی پورٹ کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں چاند کی سطح پر بڑی اشیا، جانور اور آخرکار انسان بھی بھیجے جاسکیں گے لیکن یہ عمل قدم بہ قدم آگے بڑھے گا۔ اگلے مرحلے میں ہم شاید ڈی این اے کو بھی ایک جگہ سے دوسرے جگہ بھیجنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
میشیو کاکو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں نظری طبعیات کے پروفیسر ہیں اور وہ کئی دلچسپ موضوعات پر کتابیں تحریر کرچکے ہیں۔ انہوں نے اپنی تازہ کتاب میں کہا ہے کہ انسانوں کی یادداشت کو اپ لوڈ اور ڈاو¿ن لوڈ کیا جاسکتا ہے اور روبوٹ کو دماغ سے کنٹرول کرنے کا عمل بہت جلد عام ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…