اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) اسٹیفن ہاکنگ کی مصنوعی ذہانت ( آرٹیفیشل انٹیلیجنس) سے متعلق پیش گوئی تیزی سے پوری ہوتی نظر آرہی ہے اور اس پر چلتے ہوئے سائنس دانوں نے ایسا روبوٹ تیار کرلیا جو روبوٹ بچوں کو جنم دے گا۔
کیمرج یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مدر روبوٹ میکنائزڈ بلاکس کا استعمال کرتے ہوئے نئے بچے بنائے گی جو پرانی جنریشن سے تخلیق میں سے بہترین بچوں کا انتخاب کر کے انہیں نئی تخلیق دے گی۔ سائنس دانوں کہنا ہے کہ یہ مدر روبوٹ انسان اور جانوروں کی طرح خود دوسرے روبوٹ کو تخلیق کرتی ہے اور اس عمل کے دوران وہ اپنی پیدا کردہ اس نسل میں سے بہترین کا انتخاب کرکے ان کے ڈیزائن کو بہتر بناتی ہے۔ ماہرین کی جانب سے اس ایجاد کو مشین میں قدرتی سلیکشن کی جانب ایک اہم قدم اور مصنوعی ذہانت کی کامیابی کی جانب ایک اور قدم کہا جا رہا ہے۔
روبوٹ کی تخلیق کے دوران مدر روبوٹ کو اس طرح پروگرام کیا گیا ہے کہ وہ پہلے کیوب بوٹ بناتی ہے جب کہ اس میں موجود موٹر اسے حرکت کے قابل بناتی ہے اور اس حرکت کے بنیاد پر ڈیزائن کو ریفائن کیا جاتا ہے، 5 الگ الگ تجربات میں مدر روبوٹ کو 10 جنریشن تک کے روبوٹ تخلیق کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے جب کہ ہر بار سب سے فٹ بوٹ کو اگلے بچے کے ڈیزائن کی معلومات فراہم کردی جاتی ہے۔
تحقیق کے بانی ڈاکٹر فومیا لیڈا کا کہنا ہے کہ مدر روبوٹ کا قدرتی عمل ری پروڈکشن اور مشاہدہ پھر ری پروڈکشن اور مشاہدہ ہے اور یہ عمل اسی طرح جاری رہتا ہے جب کہ بنائے جانے والے بچے 5 آسان ترین اصولوں پر عمل کر کے ڈیزائن کیے جاتے ہیں جس میں شکل، تعمیر اور موٹر کمانڈ اہم ہیں۔
مدر روبوٹ سب سے فٹ بچے کا انتخاب کرنے کے لیے دیکھتی ہے کہ بچہ اپنے سفر کے آغاز سے لے کر طے شدہ وقت میں کتنا فاصلہ طے کرتا ہے جب کہ ہر بچہ مکمل شکل، ڈیزائن، تعمیر اور ٹیسٹ کے عمل میں 10 منٹ لیتا ہے۔ تخلیق کے دوران ہرجنریشن کے بچے ایک جیسے رہتے ہیں تاکہ ان کی صلاحیتیں برقرار رکھی جا سکیں جب کہ خلیوں کے جینز میں تبدیلی کا عمل کم کامیاب بچوں پر کیا جاتا ہے۔ فومیا کا کہنا ہے کہ حیاتیات کا سب سے اہم سوال ہے کہ ذہانت کہاں سے آئی ہے اور اس کو سامنے لانے کے لیے روبوٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپیوٹرانسان کی طرح سوچنے، دیکھنے اورکام کرنے لگیں یہاں تک پہنچنے میں ابھی وقت لگے گا تاہم اس ایجاد سے حیاتیات کے کچھ اہم اجزا کو انجیئرنگ کی دنیا میں لانے میں مدد ملے گی۔
اس عمل سے جانداروں میں اپنے ماحول کے علاوہ دیگر ماحول میں بھی رہنے کی صلاحیت پیدا کی جاسکتی ہے جیسے اگر کوئی جانور صرف پانی میں رہتا ہے تو خشکی پر زندہ رہ سکے گا اسی طرح مشینیں اپنی پوری زندگی کے دوران ایک ہی شکل کی اشیا بناتی ہیں تاہم مدر روبوٹ میں یہ صلاحیت ہوگی کہ وہ کئی شکلوں کے بچے تخلیق کرے گی اور ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلی لا سکے گی۔
سائنسدان: روبوٹ بچوں کو جنم دینے والی مدر روبوٹ تیار کرلی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے



















































