ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

قدیم تاریخی ورثے کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے تھری ڈی کیمرے۔۔۔

datetime 30  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )مشرق وسطیٰ میں قدیم تاریخی ورثے کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں خطے بھر میں تھری ڈی تصاویر بنانے والے کیمرے دے جائیں گے۔
خیال رہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے مشرق وسطیٰ میں کئی آثار قدیمہ کو تباہ کردیا ہے۔دولتِ اسلامیہ کی ویڈیو میں نمرود کی تباہی پیلمائرا کا تاریخی ورثہ دولتِ اسلامیہ کے رحم و کرم پردولت اسلامیہ نے پیلمائرا میں ’قدیم عبادت گاہ تباہ کر دی‘آکسفورڈ اور ہارورڈ کے ماہر آثارقدیمہ کی جانب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت ہزاروں مقامی افراد کو تصاویر بنانے کے لیے کہا جائے گا۔

150828210648__the_5000_year-old_citadel_in_aleppo_has_since_been_damaged_by_explosions__624x351_afp_nocredit

اس تصاویر کے لیے ماہرین تھری ڈی پرنٹر کا استعمال کرتے ہوئے تباہ ہونے والی عمارتوں اور آثار قدیمہ کی نقل دوبارہ تیار کر سکیں گے۔شام کے شہر حلب میں واقع 5000 سال پرانے قلعے کو بمباری سے نقصان پہنچا ہے خیال رہے کہ رواں ماہ شام کے شہر پیلمائرہ میں واقع آثار قدیمہ کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے نقصان پہنچایا ہے۔برطانیہ کے انسٹی ٹیوٹ فار ڈیجیٹل آرکیالوجی کی جانب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت دنیا بھر میں شورش زدہ علاقوں میں 5000 کیمرے تقسیم کیے جائیں گے اور سنہ 2016 کے اختتام تک خطرے سے دوچار چیزوں کی دس لاکھ تصاویر جمع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔اس منصوبے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر روجر مچل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ وقت کے خلاف ایک دوڑ ہے، ہم نے تباہ ہونے والے مقامات کے پیش نظر اپنا ٹائم ٹیبل تبدیل کر دیا ہے۔

150828210713_samarra_north_of_baghdad_624x351_afp_nocredit

‘اگر بہت سے مقامات کی بے شمار عام تصاویر بھی بنائی جارہی ہیں تاہم جو تھری ڈی ٹیکنالوجی یہ ٹیم استعمال کر رہی ہے اس کی مدد سے چیزوں کی دوبارہ تخلیق ممکن ہو سکے گی۔اس ٹیم نے ایک سستا تھری ڈی کیمرہ تیار کیا ہے جس کی مدد سے ناتجربہ کار افراد بھی اعلیٰ معیار کی تصاویر بنا سکیں گے جو خودبخود ایک آن لائن ڈیٹا بیس میں محفوظ ہوتی جائیں گی۔عراقی شہر سامرا کا شمار بھی عالمی ثقافتی ورثے میں ہوتا ہےروجر مچل کہتے ہیں: ’میرے خیال میں ان جگہوں کے فنِ تعمیر اور فن کی تاریخ کو محفوظ بنانے کے لیے ہمارے پاس ڈیجیٹل آرکیالوجی ایک بڑی امید ہے۔‘تاہم ان کا کہنا تھا ’ان کی تقسیم سب سے بڑی مشکل ہے۔‘وہ مقامی افراد جو کام کرنے کے خواہشمند ہیں، ان کو کیمروں کی تقسیم کے لیے حکام یونیسکو کے ساتھ بھی کام کریں گے۔روجر مچل کے مطابق ’تمام مشرق وسطیٰ میں وہ اپنی مقامی شناخت اور تاریخ میں بہت زیادہ لگاو¿ رکھتے ہیں کہ وہ مدد کرنے کے لیے رضا مند ہوں گے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…