منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

محکمہ ریلوئےکی گوجرانوالہ اور وزیرآباد میں کھڑی 50بوگیاں ناکارہ

datetime 22  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک )محکمہ ریلوے کی غفلت کے باعث گوجرانوالہ اور وزیرآباد میں 50 بوگیاں کھڑے کھڑے ناکارہ ہوگئیں ، ایک بوگی کی مالیت تقریبا ایک کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ ریلوے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا امکان ہے ۔ گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن پر 22 اور وزیر آباد میں ٹرین کی 28بوگیاں عرصہ دراز سے کھڑی ہیں ۔ بھوت بنگلوں کا منظر پیش کرنے والی یہ بوگیا ں نشہ کرنے والوں اور جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بن گئی ہیں ۔محکمہ ریلوے کی غفلت کے باعث بوگیوں سے پنکھے،لائٹ اورسیٹوں کے ساتھ ساتھ قیمتی پرزے بھی چوری ہوگئے ہیں ۔ ریلوے ذرائع کے مطابق مسافر ڈبوں کو معمولی فنی خرابی کے باعث تقریبًا 6ماہ قبل یہاں کھڑا کیا گیا تھا ،انہیں مرمت کیلئے مغل پورہ لاہور کی ورکشاپ لے جانا تھا۔مکینیکل ڈپارٹمنٹ ریلوے کے مطابق ٹرین کی ایک بوگی کا وزن تقریبًا 42ٹن ہوتا ہے اور اس کی مالیت تقریبًا ایک کروڑ روپے بنتی ہے اس طرح انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی غفلت سے 50بوگیاں ناکارہ ہونے سے کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ ریلوے پولیس چوکی کے انچارج اصغر علی کا کہنا ہے کہ یہ بوگیاں سیکیورٹی رسک بن چکی ہیں ،انہوں نے متعدد بار انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ لاہور سے بوگیاں ورکشاپ منتقل کرنے کی درخواست کی لیکن کہا جاتا ہے کہ ورکشاپ میں جگہ نہیں ہے۔ریلوے انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیو نیو ز کو بتایا کہ گوجرانوالہ اور وزیر آباد میں کھڑی بوگیوں میں زیادہ تراچھی حالت میں تھیں، لیکن محکمہ کی غفلت کے باعث یہ بوگیا ں اب ناکارہ ہو چکی ہیں۔ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ نے کارروائی سے بچنے کے لئے بوگیوں کو ناکارہ ظاہر کرتے ہوئے نا قابل مرمت قرار دیدیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…