اسلام آباد (نیوزڈیسک)ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہاہے کہ ایران سعودی عرب سے اختلافات طے کر نے پر تیار ہے لیکن اس کےلئے اسے بھی جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کر نا ہوگا . بھارت سمیت کوئی ملک بھی پاکستان کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتا جو لوگ فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں وہ مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں کررہے . امریکہ سے صرف ایک معاملہ طے ہوا ہے . باقی سنگین اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں .فلسطین اور کشمیر کاز کی حمایت کرتے ہیں .افغانستان سے امریکی انخلاءکے بعد تین ملکی سکیورٹی نظام قائم ہوناچاہیے ۔ جمعرات کو یہاں قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہاکہ عالم اسلام کا اتحاد ناگزیر ہے بھارت سمیت کوئی ملک بھی ایران کےلئے پاکستان کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتا اسلام ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے اور کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی ایران سعودی عرب کے ساتھ بھی اختلافات طے کر نے پر تیار ہے لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کیا جائے ہمیں مثبت اور تعمیری انداز میں مسابقت پر توجہ دینی چاہیے ایران خلیج تعاون کونسل کے ملکوں سے بات چیت کا خواہاں ہے جو لوگ فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں وہ مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں کررہے ہیں جو چیز پاکستان کی سلامتی کےلئے خطرہ ہے ایران بھی اسے اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے دونوں ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کے درمیان تعاون کے فروغ سے ایشیائی پارلیمانی اسمبلی اور اسلامی ممالک کی تنظیم کی پارلیمانی یونین کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے شاہ محمود قریشی کے ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہاکہ ایران اپنے حصے کی پائپ لائن مکمل کر چکا ہے اور اب پاکستان میں اس کی تکمیل کامنتظر ہے شیخ رشید احمدکے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جواد ظریف نے فلسطین اور کشمیر کےلئے حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ ایران کو فلسطینی کاز کی حمایت کر نے پر عالمی مخالفت کا سامنا ہے انہوںنے امید ظاہر کی کہ امریکی کانگریس ایران سے جوہری سمجھوتے کے بارے میں صدارتی ویٹو کو ختم نہیں کریگی ایران نے امریکہ سے صرف ایک معاملہ طے کیا ہے اور عالمی طاقت سے ہمارے دیگر سنگین اختلافات بدستور اپنی جگہ موجود ہیں یمن بحران کے بارے میں انہوںنے کہاکہ ایران نے ہمیشہ اس مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا ہے انوہںنے قطر میں متعلقہ فریقین کے درمیان جاری بات چیت کا خیر مقدم کیا ایرانی وزیر خارجہ نے تجویز پیش کی کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلاءکے بعد تین ملکی سکیورٹی انتظام ہونا چاہیے انہوںنے اشرف غنی کی قیادت میں افغان حکومت کے پاکستان سے تعلقات کابھی خیر مقدم کیا انہوں نے کہاکہ افغانستان کی حکومت کو امن کی بحالی کےلئے ہماری حمایت کی ضرورت ہے رکن قومی اسمبلی اسفن یار بھنڈارا کے سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ ایران کو زرتشتوں کا گھر ہونے فخر ہے اور ہم اس کی اقدار کو بڑی اہمیت دیتے ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی دوسرے ملک کے وزیر خارجہ نے پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کیا ہے اس موقع پرکمیٹی کے چیئر مین اویس لغاری نے معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ ایران نے کامیابی سے عالمی طاقتوں کے ساتھ جامع سمجھوتہ کیا ہے اس ضمن میں انہوںنے جواد ظریف کی قیادت کو سراہا او ر کہاکہ دونوں ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کے درمیان تبادلہ خیال سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفاد ہ مدد ملے گے اور مفاہمت بڑھے گی اویس لغاری نے کہاکہ پاکستان میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق کی قیادت میں جمہوری ادارے مستحکم ہوئے ہیں ۔
افغانستان میں امن،سعودی عرب سے تنازعہ اوربھارت سے تعلقات،ایرانی وزیرخارجہ نے اہم ترین تجویز پیش کردی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا



















































