لاہور (نیوز ڈیسک)پاکستان کے صوبے پنجاب کے علاقے قصور میں مبینہ طور پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے پنجاب حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو دو ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کروائے گی۔پاکستان کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ڈی آئی جی ابوبکر خدا بخش کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں خفیہ اداروں کے دو اہلکار بھی شامل ہوں گے۔مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں ایس پی خالد بشیر چیمہ، ڈی ایس پی لیاقت علی شامل ہیں۔نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق شیخوپورہ رینج کے ریجنل پولیس افسر صاحبزادہ شہزاد سلطان نے کہا ہے کہ قصور کیگاؤں حسین والا میں بچوں کو مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں اب تک پولیس کے پاس 30 ویڈیوز آئی ہیں جن میں کہیں بھی یہ تاثر نہیں ملتا کہ ان بچوں کو زبردستی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔دوسری جانب قصور کی ایک مقامی عدالت نے متعدد بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں پانچ ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کردی ہے۔کچھ ویڈیو جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں نے پولیس کو فراہم کیں، جبکہ زیادہ تر ویڈیوز ملزمان کے قبضے سے برآمد کی گئی ہیں،مقامی پولیس کے مطابق ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد اب 13 ہوگئی ہے جبکہ ایک ملزم ابھی تک مفرور ہے۔ یہ تمام ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔پولیس افسر صاحبزادہ شہزاد سلطان نے کہا کہ ان 30 ویڈیوز میں نو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے جبکہ ان ویڈیو کلپس کے ذریعے ہی اس میں ملوث سات ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔صاحبزادہ شہزاد سلطان کے مطابق جن چھ ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کروا رکھی تھی وہ گرفتار ہونے والے ملزمان کے باپ اور چچا ہیں۔انھوں نے بتایا کہ کچھ ویڈیو جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں نے پولیس کو فراہم کیں، جبکہ زیادہ تر ویڈیوز ملزمان کے قبضے سے برآمد کی گئی ہیں۔ریجنل پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات بے معنی ہوجاتی ہے کہ اس میں ملزم اور زیادتی کا شکار ہونے والوں کی رضامندی شامل تھی۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی میڈیا پر 285 بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کی خبریں آ رہی ہیں جبکہ ابھی تک پولیس کے پاس ان واقعات سے متعلق سات مقدمے درج ہوئے ہیں۔ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات بیمعنی ہوجاتی ہے کہ اس میں ملزم اور زیادتی کا شکار ہونے والوں کی رضامندی شامل تھی۔شہزاد سلطان کے مطابق اس واقعے سے متعلق پہلا مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے متاثرہ گاؤں میں جاکر مساجد میں اعلان بھی کروائے ہیں کہ اگر کوئی بھی جنسی تشدد کا شکار ہوا ہے وہ آ کر پولیس کو اطلاع دے لیکن ابھی تک کوئی نیا مقدمہ درج نہیں ہوا۔مقامی آبادی کے رہائشی عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ گاؤں کے بہت سے بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن عزت کی خاطر یہ لوگ پولیس کو شکایت درج کروانے سے گریزاں ہیں۔اْنھوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار بھی لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر انھوں نے ان واقعات کے بارے میں رپورٹ درج کروائی تو یہ اْن کے حق میں بہتر نہیں ہو گا۔آر پی او کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اور مقدمات کی سماعت لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہو گی۔دوسری جانب پنجاب حکومت کی طرف سے اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا خط لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کو موصول ہوگیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کے ان واقعات کی انکوائری کے لیے سیشن جج کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔
مبینہ جنسی زیادتی کیس : مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل، دو ہفتوں میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا



















































