جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں ایک اور خاتون کی سر راہ عزت لوٹ لی گئی

datetime 7  دسمبر‬‮  2014 |

نئی دہلی۔۔۔۔بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک 27 سالہ خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اس خاتون نے کیب کے ڈرائیور پر ریپ کا الزام لگایا ہے۔پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کی شب تقریبا ساڑھے نو بجے پیش آیا۔دہلی سے ملحق شہر گڑگاؤں کی ایک مالیاتی کمپنی میں کام کرنے والی یہ خاتون شمالی دہلی کے اندرلوے میں اپنے گھر لوٹ رہی تھیں۔میڈیکل جانچ میں ریپ کی تصدیق ہوئی ہے تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس خاتون کو اس سے قبل کسی قسم کا نشہ آور مادہ نہیں دیا گیا تھا۔سرائے روہیلا پولیس تھانے میں آئی پی سی کی دفعہ 376 (ریپ)، 323 (دانستہ طور پر چوٹ پہنچانا) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔پولیس نے ڈرائیور کی شناخت بھی کر لی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیور کی عمر تقریباً 35 سال ہے اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش جاری ہیں۔دو سال قبل 16 دسمبر کے واقعے کے بعد ملک بھر میں ریپ کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے اور دہلی میں بطور خاص یہ مظاہرے شدید تھے۔سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بارے میں شدید رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے اور ایک بار پھر سے بھارتی دارالحکومت میں خواتین کے تحفظ کے مسئلے کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔عام آدمی پارٹی کے رہنما آشوتوش کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ایک بار پھر بتاتا ہے کہ ’نربھیا کیس‘ سے پیدا ہونے والی بیداری کے باوجود دہلی اب بھی خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہے۔واضح رہے کہ نربھیا کیس دو سال قبل دہلی کی ایک چلتی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی ریپ کا معاملہ ہے۔ اس واقعے کے بعد اس لڑکی کی موت واقع ہوگئی تھی جس کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر پھیل گئی تھی اور جنسی زیادتیوں کے قوانین میں سختی لائی گئی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…