جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان نے امریکا اور دیگر سابق حریف ممالک سے تعلقات کی خواہش ظاہر کردی

datetime 14  دسمبر‬‮  2021 |

کابل(این این آئی ) افغانستان کے نئے طالبان حکمران نے لڑکیوں اور خواتین کے لیے تعلیم کے سازگار ماحول اور ملازمت دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بتایا کہ طالبان حکومت تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے اور اس کا امریکا سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے واشنگٹن اور دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ 10 ارب ڈالر

سے زیادہ کے فنڈز جاری کریں جو 15 اگست کو طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد منجمد کر دیے گئے تھے۔وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان کے خلاف پابندیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، افغانستان کو غیر مستحکم بنانا یا کمزور افغان حکومت کا ہونا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں سابق حکومت کے معاونین، ملازمین بھی شامل ہیں۔امیر خان متقی نے کہا کہ طالبان اب بدل چکے ہیں، ہم نے انتظامیہ اور سیاست میں قوم اور دنیا کے ساتھ بات چیت میں ترقی کی ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم مزید تجربہ حاصل کریں گے اور ترقی کریں گے۔امیر خان متقی نے کہا کہ طالبان کی نئی حکومت کے تحت ملک کے 34 صوبوں میں سے 10 میں سے 12ویں جماعت تک لڑکیاں اسکول جا رہی ہیں، پرائیویٹ اسکول اور یونیورسٹیاں بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہی ہیں اور 100 فیصد خواتین جو پہلے صحت کے شعبے میں کام کر چکی ہیں واپس آ گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اصولی طور پر خواتین کی قومی دھارے میں شرکت کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ طالبان نے اپنے مخالفین کو نشانہ نہیں بنایا اس کے بجائے عام معافی کا اعلان کیا اور کچھ تحفظ فراہم کیا۔امیر خان متقی نے کہا کہ پچھلی حکومت کے رہنما کابل میں بغیر کسی خطرے کے رہتے ہیں حالانکہ اکثریت بھاگ چکی ہے۔وزیر خارجہ نے امریکا یا دیگر کسی ملک جاننے والے کے خواہش مند افراد کے تناظر میں غربت اور خوف کی بجائے اپنے ہی ملک میں بہتر زندگی گزارنے پر زور دیا کیا۔انہوں نے کہا کہ طالبان نے اپنے اقتدار کے پہلے مہینوں میں غلطیاں کی ہیں اور وہ مزید اصلاحات کے لیے کام کریں گے جس سے قوم کو فائدہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے غلطیوں یا ممکنہ اصلاحات کی وضاحت نہیں کی۔امیر خان متقی نے امریکی میرین جنرل فرینک میک کینزی کے ان تبصروں کو مسترد کردیا جس میں انہوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگست کے آخر میں امریکی افواج کے جانے کے بعد سے افغانستان میں القاعدہ کے اندر شدت پسند گروپ کا اثر بڑا ہے۔جنرل میک کینزی مشرق وسطی میں واشنگٹن کے اعلی فوجی کمانڈر ہیں۔امیر خان متقی نے کہا کہ طالبان نے اگست کے آخر میں ختم ہونے والے انخلا کے آخری مرحلے کے دوران امریکی اور نیٹو افواج پر حملہ نہ کرنے کے وعدے کے ساتھ اس وعدے پر قائم ہیں۔انہوں نے امریکا اور امریکی قوم کو مخاطب کرکے کہا کہآپ ایک عظیم اور بڑی قوم ہیں اور آپ کے پاس اتنا صبر اور بڑا دل ہونا چاہیے کہ وہ بین الاقوامی اصولوں اور ضوابط کی بنیاد پر افغانستان کے بارے میں پالیسیاں بنانے کی جرات کر سکیں اور اختلافات کو ختم کریں، فاصلے کم کریں اور افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا انتخاب کریں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…