اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

مسوں سے چھٹکارے کاآسان طریقہ

datetime 5  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )مسے کسی کو اچھے نہیں لگتے، چہرے، گردن یا جسم کے ان حصوں پر جو کھلے رہتے ہیں، مسے نکل آنا پریشان کن ثابت ہوتا ہے۔ خاص طور پر خواتین اپنی خوبصورتی کے حوالے سے زیادہ محتاط ہوتی ہیں، اس لئے مسے ان کے لئے زیادہ پریشان کن ثابت ہوتے ہیں۔اگرچہ یہ تکلیف دہ نہیں ہوتے لیکن چہرے یا گردن پر ہوں تو بدنما لگتے ہیں۔زمانہ قدیم سے مسے ہٹانے یا ختم کرنے کے لئے مختلف طریقے آزمائے جاتے رہے ہیں، ریزر یا بلیڈ کے ساتھ کاٹنے پر یہ دوبارہ اگ آتے ہیں، پرانے زمانے میں گدھے یا گھوڑے کی دم کا بال لے کر اسی مسے کے گرد کس کر باندھ دیا جاتا تھا اور چند دن میں یہ بال مسے کو اس طرح سے کاٹ ڈالتا تھا کہ درد کا احساس ہوتا تھا نہ خون نکلتا تھا۔اب مگر ایک ایسا طریقہ بھی عام ہو رہا ہے جس سے بغیر کسی درد یا تکلیف کے ان سے نجات پائی جا سکتی ہے۔اس مقصد کے لیے آپ کو چاہیے ایپل سیڈر یعنی سیب کا سرکہ اور تھوڑی سی روئی۔روئی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لیں جو سائز میں مسے سے بڑا نہ ہو، اسے سرکے میں بھگوئیں اور پھر ہلکا سا نچوڑ کر اسے مسے پر رکھیں، اور اسے وہاں پر ٹکائے رکھنے کے لئے پٹی باندھ دیں یا ٹیپ چپکا دیں۔رات کو یہ عمل کر کے سو جائیں اور صبح اٹھ کر اسے صابن سے دھو لیں۔ہر روز یہی عمل تین چار روز تک دہرائیں، پہلے مسے کی رنگت بدلے گی، بھورے سے سیاہ ہو گی اور پھر وہ سوکھنے لگے گا، تین چار روز بعد وہ خود ہی جھڑ کر علیحدہ ہو جائے گا۔اس عمل سے اول تو جلد پر کوئی نشانہ نہیں آئے گا تاہم اگر ایسا ہو بھی تو ایلوویرا کا جوس چند دن مسلسل لگاتے رہیں، داغ خود ہی ختم ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…