جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

الیکشن میں حصہ لینے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا، روسی صدر پیوٹن

datetime 1  دسمبر‬‮  2021 |

ماسکو (این این آئی)روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ آئندہ صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیں گے۔ ان کے منصب کی موجودہ مدت سن 2024 میں پوری ہو رہی ہے۔روس کے صدر ولادیمیر پوٹن رواں صدی کے اوائل سے اپنے ملک کے اقتدار پر براجمان ہیں، کبھی بطور صدر اور کبھی بحیثیت وزیر اعظم۔ وہ سابق سوویت یونین کے لیڈر جوزف اسٹالن کے بعد

اس خطہ ارضی پر طویل حکومت کرنے والے رہنما بن چکے ہیں۔یہ امر اہم ہے کہ روس میں گزشتہ برس پارلیمنٹ نے ایک مسودہ قانون کو منظور کر کے ملکی دستور کا حصہ بنایا تھا، جس کے مطابق ولادیمیر پوٹن سن 2024 کے بعد مزید دو مرتبہ صدر کا الیکشن لڑنے کے اہل ہیں۔ روس میں منصبِ صدر کی مدت چھ سالوں پر محیط ہوتی ہے۔صدر ولادیمیر پیوٹن ملکی دارالحکومت ماسکو میں ایک سرمایہ کاری فورم سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے فورم کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ اس کا انہوں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا کہ انہیں اگلے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے لیکن ایک بات یقینی طور پر واضح ہے کہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے حق کی بدولت ملک میں داخلی سیاسی صورت حال مستحکم ہے۔ انہوں نے الیکشن میں بطور امیدوار حصہ لینے کو اپنے حق کے طور پر لیا ہے۔بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر ولادیمیر پوٹن کے پاس سن 2024 میں الیکشن لڑنے کا حق حاصل نہ ہوتا تو وہ ایک بے اختیار صدر کے طور پر ہوتے۔یہ بھی اہم ہے کہ پوٹن کا اگلے صدارتی الیکشن میں بطور امیدوار حصہ لینے کے حوالے سے کریملن نے اس امریکی بیان کو لغو قرار دے کر مسترد کر دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا پوٹن کو سن 2024 کے بعد روس کا صدر تسلیم نہیں کرے گا۔سرمایہ کاری فورم میں خطاب میں پوٹن نے کہا کہ گزشتہ برس کی دستوری ترامیم نے حقیقت میں ملک کو اندرونی طور پر مستحکم ہونے میں مدد دی تھی۔ انہتر سالہ پوٹن اس وقت اپنی چوتھی مدت صدارت کے نصف میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سن 2000 میں اقتدار سنبھالا تھا۔گزشتہ برس کی دستوری ترمیم کے بعد ولادیمیر پوٹن سن 2024 کے بعد مزید دو مرتبہ صدر کا الکیشن لڑنے کے اہل ہیںگزشتہ ماہ امریکی ٹیلی وژن چینل سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں روسی صدر نے کہا تھا کہ اپنے ممکنہ جانشین کے نام کا ابھی سے اعلان ملکی سیاسی نظام کو عدم استحکام کا شکار کر سکتا ہے۔روسی اپوزیشن نے دستوری ترامیم کی شدید مخالفت کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پوٹن ان ترامیم کی روشنی میں چھٹی مدت کا الیکشن لڑٰیں گے تو ان کی عمر چوراسی برس کی ہو گی۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ تاحیات صدر رہنے کی تمنا رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…