پیر‬‮ ، 12 اکتوبر‬‮ 2026 

جسے موقع ملتا ہے زمینوں پر قبضہ کرلیتا ہے، حکام پورا ملک ’’کتر‘‘ کر بڑے لوگوں کو دیدیں، سپریم کورٹ

datetime 4  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کو حکم دیا ہے کہ ایک ہفتہ میں گریڈ ایک سے پانچ تک کے کم آمدن والے ملازمین کو مختلف ہاؤسنگ اسکیموں کے تحت اب تک دئیے گئے پلاٹس کے اعداد و شمار پیش کئے جائیں، عدالت نے قرار دیا ہے کہ جس کو موقع ملتا ہے زمینوں پر قبضہ کر لیتا ہے۔ فیڈرل ہاؤسنگ اسکیم کے حکام کو چاہئے کہ پورے ملک کو کتر کر بڑے لوگوں کو دے دیں، کیا بڑے ملازمین تنخواہیں نہیں لیتے یہ ملک امیروں کے لیے بنا ہوا ہے یہاں تو افسران ڈیپوٹیشن پر آتے ہیں 4ماہ میں پلاٹ اپنے نام کراتے ہیں اور بیچ کر اپنے اصل محکمہ میں چلے جاتے ہیں، چھوٹے ملازمین کو پلاٹ نہیں دینے تو انہیں نیلا تھو تھا دے دیں، غریبوں کی بستیاں تو بارشوں اور طوفانوں میں اجاڑ دی گئیں کیا کبھی کسی سرکاری افسر کی پراپرٹی پر بھی قبضہ ہوا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے دورکنی بنچ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ سوسائٹی کی جانب سے اسلام آبادہائیکورٹ کے فیصلہ کیخلاف دائر اپیل کی سماعت کا آغاز کیا تو جسٹس جواد خواجہ نے کہا کوٹہ سسٹم کے تحت پلاٹوں کی ملازمین میں تقسیم بذات خود ایک تفریق ہے، ملک میں عجیب صورتحال ہے غاصبانہ قبضہ کر کے مساجد تعمیر کی جاتی ہیں اور نمازی دھڑا دھڑ نمازیں پڑھتے ہیں ان کو کوئی یہ نہیں بتاتا کہ قبضے کی زمین پر بنائی گئی مساجد میں نماز جائز نہیں ہوتی، اس حوالے سے واضح فتوے موجود ہیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کیابڑے ملازمین تنخواہیں نہیں لیتے کوٹہ سسٹم تو بذات خود تفریق ہے کیونکہ کوٹہ کے تحت تو یہ ہو گا کہ 22گریڈ کے افسر کو پلاٹ دے دو اور نائب قاصد کو پلاٹ نہ دو کیونکہ چھوٹے گریڈ کا ملازم نہ تو ملک کا شہری ہے اور نہ اس کے بیوی بچے ہیں۔ عدالت کو یہ بتایا جائے کہ بی ایس 1تا5کے ملازمین کو اسلام آباد کے تمام سیکٹر ز میں کتنے پلاٹ دیئے گئے ہیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ سو ئٹزرلینڈ کےسفیر جب اپنے وطن واپس گئے تو ان سے کسی نے اسلام آباد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا دارالحکومت انتہائی خوبصورت شہر ہے جو پاکستان سے 20منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔ جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ غریبوں کی بستیاں تو بارشوں اور طوفانوں میں اجاڑ دی گئیں کیا کبھی کسی سرکاری افسر کی پراپرٹی پر بھی قبضہ ہوا ہے۔
(بشکریہ ۔۔جنگ)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…