جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بائیڈن نے ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں مزید ایک سال توسیع کر دی

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر جو بائیڈن نے ایرانی حکومت کے خلاف قومی ایمرجنسی میں مزید ایک سال کی توسیع کی منظوری دیدی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وائٹ ہائوس نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے تعلقات ابھی تک بحال نہیں ہوئے اور ایران کی جانب ایمرجنسی کی حالت سے نمٹنے کے لیے نومبر 1979 سے شروع ہونے والا عمل جاری رہے گا۔وائٹ ہائوس کے

بیان میں ایگزیکٹو آرڈر 12170 کا حوالہ دیا گیا جو پہلی بار 14 نومبر 1979 کو جاری کیا گیا تھا۔یہ ایگزیکٹو آرڈر سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی صدارت کے دوران اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے 10 دن بعد جاری کیا گیا تھا۔ یہ قبضہ 4 نومبر 1979 کو خمینی سے تعلق رکھنے والے طلباکے گروپ کی طرف سے کیا گیا۔اس ایگزیکٹو آرڈر کو تمام ریپبلکن اور ڈیموکریٹک صدور نے ایران کے خلاف 42 سال تک بدستور جاری رکھا ہے میں کہا گیا کہ ایران امریکا کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معیشت کے لیے ایک غیر معمولی خطرے کی نمائندگی کرتا ہے، پچھلے جنوری میں بائیڈن کے وائٹ ہاس میں داخل ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں توسیع کی ہے تاہم توقع تھی کہ ایسا کوئی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔بائیڈن کا یہ حکم اس وقت آیا جب ان کی حکومت نے ایران اور یورپی یونین کی جانب سے جوہری معاہدے کی بحالی پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کیا اور تہران سے نیک نیتی سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا۔ویانا مذاکرات جو ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی ہیں 28 دسمبر کو آسٹریا کے دارالحکومت میں دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ نے حالیہ مہینوں میں بارہا اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدے میں واپسی تبھی ممکن ہو گی جب ایران بھی معاہدے کے تحت اپنے تمام وعدوں پر عمل درآمد کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…