جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

دنیامیں بڑی تباہی کی پیش گوئی

datetime 3  اگست‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک) جیسے جیسے گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اوردنیا بھرمیں درجہ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے ہزاروں لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ویسے ویسے سائنس دان اورماہرین فلکیات شمسی طوفان کے قریب آنے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں اور اب ایک نئی پیش گوئی میں اس خطرے کا اظہار کیا گیا ہے کہ مستقبل میں شمسی طوفان سے آگ کا ایک ایسا طوفان برپا ہوگا کہ جس سے صرف 12 گھنٹے میں دنیا ایک بڑی تباہی سے دوچار ہوگی۔برطانوی سائنس دانوں اورماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اس شمسی طوفان سے فضا میں بلند جہازگرجائیں گے، دوڑتی ٹرینیں ٹریک سے اترجائیں گی جب کہ دنیا بھرمیں بجلی کا نظام درہم برہم ہوجائے گا جس سے ہر طرف تاریکی چھا جائے گی اس کے علاوہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا نظام بھی تباہ ہو جائے گا جس کی وجہ سے انٹرنیٹ،موبائل سمیت دنیا بھر کا نیٹ سسٹم تباہ ہو گا اورایک اندازے کے مطابق کھربوں ڈالر کا نقصان ہوگا جو دنیا کو ایک بڑے معاشی بحران میں مبتلا کردے گا۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگربجلی کے نظام کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو گلیوں اور سڑکوں پر افرا تفری اورانارکی پھوٹ پڑے گی۔برطانوی حکومت نے سائنس دانوں کی اس پیش گوئی یعنی شسمی طوفان (سولر اسٹورم) کو بڑا خطرہ قرار نہیں دے رہی تاہم برطانوی کیبنٹ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دنیا بہرحال اس تباہی کے لیے خود کو تیارنہیں کر سکتی کیوں کہ اگر واقعی یہ طوفان آتا ہے تو پھر 12 گھنٹے میں کسی بھی حفاظتی انتظام کے لیے ناکافی ہوں گے۔ ماہرین کے نزدیک طوفان کے نتیجے میں انتہائی بڑے پیمانے پر سورج سے توانائی کا اخراج ہوگا جس سے انتہائی طاقتور ایکس ریز اور تابکاری شعاعوں کا زمین کی طرف اخراج ہوگا جس سے دنیا بھر میں موجود جوہری پلانٹس اور ہتھیار تباہ ہوسکتے ہیں اور تباہی دوگنی ہوجائے گی۔برطانوی ڈیپارٹمنٹ آف بزنس، انوویشن اینڈ اسکلز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی قدرتی آفت کا آنا ممکن ہے تاہم جدید معاشرے اس المناک حادثے کے لیے تیار نہیں ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شمسی طوفان کے دوران سورج سے نکلنے والے پلازما کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوسکتی ہے تاہم اس طوفان کے وقت کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے لیکن ہر 11 سال بعد اس کی طاقت میں اضافہ ہوجاتا ہے جب سورج اپنی مقناطیسی فیلڈ کو ریورس کرتا ہے۔رپورٹ میں خبردارکیا گیا ہے کہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس خوفناک خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے متعلق سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ ایک برطانوی کنسورشیم نے اس خطرے کے لیے خصوصی مشن کی تجویز دی ہے جو اس کے لیے وارننگ سسٹم قائم کرے گا اور یہ سسٹم طوفان سے 5 دن قبل کی وارننگ جاری کر سکے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…